مدھیہ پردیش ہائیکورٹ : 4 مسلمانوں کیخلاف این ایس اے الزامات کالعدم

   

Ferty9 Clinic

ریاستی حکومت نے گرفتاری کے احکام میں غلط بیان دیا ، حکومت پر 10 ہزار روپئے کا جرمانہ ، عدالت کا فیصلہ

اندور : مدھیہ پردیش کے ضلع راج گڑھ میں محرم جلوس کے دوران تلواریں لانے کے سلسلہ میں نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا تھا ۔ ہائیکورٹ کی اندور ڈیویژن بنچ نے گرفتار شدہ نوجوانوں پر این ایس اے کے تحت عائد کردہ الزامات کو نہ صرف واپس لے لیا بلکہ انہیں کالعدم قرار دیا ۔ عدالت میں غیرصحیح معلومات اور غلط بیان دینے کی پاداش میں ریاستی حکومت پر 10 ہزار کا جرمانہ عائد کیا ہے ۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ہر ایک کیس کیلئے 10 ہزار روپئے کی قانونی فیس ادا کرے ۔ 19 سالہ ملزم حکیم کے بڑے بھائی کی جانب سے داخل کردہ 4 مشترکہ حبس بیجا رٹ درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس ایس سی شرما اور شیلندر شکلا پر مشتمل دو رکنی بنچ نے حساس ظاہر کیا کہ کلکٹر نے 19 سالہ حکیم اور دیگر 3 نوجوانوں پر /4 ستمبر 2020 ء کو این ایس اے الزامات عائد کئے تھے ۔ یہ لوگ جاریہ سال محرم جلوس کے دوران تلوار لے کر باہر نکلے تھے ۔ عدالت نے ملزمین کے تعلق سے کہا کہ ان کا ماضی کا کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں ہے ۔ دونوں فریقین کی بحث کی سماعت کے بعد ہائیکورٹ نے کہا کہ این ایس اے کے تحت ان نوجوانوں کی گرفتاری خلاف قانون ہے ۔ ان کو رہا کیا جانا چاہئیے ۔ عدالتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دستور اور قانون کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کریں ۔ گزشتہ ماہ /15 ستمبر کو اندور کی ہائیکورٹ بنچ نے 5 مسلمانوں کے خلاف اندور کلکٹر کی جانب سے عائد کردہ این ایس اے کو برخواست کردیا ۔ /30 اگست کو یہ لوگ محرم کے جلوس میں شریک تھے ۔