کل حیدرآباد واپسی کا امکان، حیدرآبادی ڈاکٹر نورالدین اور سعودی ڈاکٹر یاسرکی خصوصی توجہ
حیدرآباد ۔ 28۔نومبر (سیاست نیوز) مدینہ منورہ کے قریب عازمین عمرہ کی بس سانحہ میں بچ جانے والے واحد زخمی نوجوان محمد عبدالشعیب کی حالت مستحکم ہونے پر سعودی جرمن ہاسپٹل سے ڈسچارج کیا گیا ۔ توقع ہے کہ شعیب اتوار کو حیدرآباد واپس ہوں گے ۔ مدینہ منورہ کے قریب 17 نومبر کی ابتدائی ساعتوں میں پیش آئے سانحہ میں حیدرآباد کے 45 عازمین عمرہ جاں بحق ہوئے تھے۔ جھرہ کاروان سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ محمد عبدالشعیب اپنے والدین اور نانا کے ساتھ بس میں سوار تھے۔ بس کو آگ لگنے کے بعد شعیب کسی طرح باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے اور مدینہ منورہ کے سعودی جرمن ہاسپٹل میں شریک کیا گیا تھا۔ آئی سی یو میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد نورالدین اور سعودی عرب کے ڈاکٹر یاسر کی نگرانی میں موثر علاج کیا گیا اور ان کے زخم تیزی سے مندمل ہورہے ہیں۔ ڈاکٹر نورالدین ، ڈاکٹر یاسر اور شعیب نے ویڈیو کال کے ذریعہ سیاست سے بات کی اور تفصیلات سے واقف کرایا۔ ڈاکٹرس کے مطابق شعیب کے چہرہ اور پیر پر زخم ہیں جنہیں حیدرآباد میں ہر تین دن میں ڈریسنگ کرنی ہوگی۔ مہدی پٹنم سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد نورالدین گزشتہ 23 برسوں سے سعودی جرمن ہاسپٹل میں برسر کار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں علاج کے ذریعہ شعیب جلد صحت یاب ہوجائیں گے ۔ ڈاکٹرس کی ٹیم نے مکمل معائنہ کے بعد شعیب کو فٹ قرار دیا اور ڈسچارج کرنے کا فیصلہ کیا۔ ڈسچارج کے سلسلہ میں پولیس کلیئرنس بھی حاصل ہوچکا ہے ۔ ہاسپٹل میں شعیب کی نگہداشت کیلئے حج کمیٹی کے ملازم محمد مسعود اور شعیب کے بھائی محمد سمیر موجود تھے اور ان کے ہمراہ شعیب حیدرآباد واپس ہوں گے ۔ وہیل چیر پر شعیب کو حیدرآباد منتقل کیا جائے گا۔ سعودی عرب کے ڈاکٹر یاسر نے شعیب کے صحت یاب ہونے پر مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ بحیثیت ڈاکٹر انہوں نے اپنے پیشہ کے ساتھ انصاف کیا ہے ۔ ڈاکٹر یاسر نے بھیانک سانحہ میں بچ جانے پر شعیب کی حوصلہ افزائی کی اور دعا کی کہ وہ حیدرآباد میں جلد صحت یاب ہوجائیں گے۔ حیدر آباد واپسی سے قبل ہندوستانی کونسلیٹ کے حکام نے شعیب کیلئے مدینہ منورہ کی حاضری اور والدین کی قبور کی زیارت کا انتظام کیا ۔ شعیب نے عاجلانہ صحت یابی کیلئے حیدرآباد اور دنیا بھر سے دعائیں کرنے والوں سے اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے تلنگانہ حکومت کی ستائش کی جس نے عازمین عمرہ کے رشتہ داروں کو مدینہ منورہ کے دورہ کا انتظام کرتے ہوئے شناخت اور تدفین میں سہولت پیدا کی۔ 1