مدینہ منورہ میں دور فاصلہ پر رہائش والے حجاج کو رقم کی واپسی

   

معلم اور خادم الحجاج کے بارے میں ریاستی حج کمیٹیوں سے رپورٹ طلب: سی ای او سنٹرل حج کمیٹی مقصود احمد خاں
فی حاجی 400 ریال واپس ہوں گے

حیدرآباد۔ 17 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ایسے حجاج کرام جن کا قیام مدینہ منورہ میں مرکزیہ کے بیرونی علاقہ میں رہا ہے، ان کیلئے خوشخبری ہے۔ سنٹرل حج کمیٹی کی جانب سے زائد فاصلہ پر رہائش فراہم کرنے کے عوض فی حاجی تقریباً 400 ریال واپس کئے جائیں گے۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر حج کمیٹی آف انڈیا ڈاکٹر مقصود احمد خاں نے سیاست سے بات چیت کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ مرکزیہ کے حدود کے باہر قیام کرنے والوں کو حج کمیٹی حاصل کردہ 800 ریال کی نصف رقم واپس کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایام حج کے دوران معلم کی جانب سے ویزا اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کے بارے میں اگر ریاستی حج کمیٹیاں شکایت کرتی ہیں تو اسے ہندوستانی کونسلیٹ جدہ کو رجوع کیا جائے گا۔ حج کمیٹیوں کو چاہئے کہ وہ معلم کی تفصیلات کے ساتھ تحریری طورپر شکایت کریں۔ انہوں نے حجاج کرام سے اپیل کی کہ وہ اپنے طور پر بھی حج کمیٹی آف انڈیا کو اپنی شکایات روانہ کریں۔ خادم الحجاج کی جانب سے حجاج کی رہنمائی میں ناکامی سے متعلق شکایات پر ڈاکٹر مقصود احمد خاں نے کہا کہ خادم الحجاج کا انتخاب اور ان پر کنٹرول ریاستی حج کمیٹیوں کی ذمہ داری ہے ۔ حج کمیٹیوں کو چاہئے کہ وہ روانگی سے قبل ہی خادم الحجاج کو پابند کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی خادم الحجاج کے بارے میں شکایت ملتی ہے تو حج کمیٹی کو اس کے خلاف کارروائی کا اختیار ہے۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر سنٹرل حج کمیٹی نے بتایا کہ 25 ستمبر کو ریاستی حج کمیٹیوں کے صدور نشین اور اگزیکیٹیو آفیسر کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں حج 2019 ء کے انتظامات پر ریاستی حج کمیٹیوں سے رپورٹ حاصل کی جائے گی اور جاریہ سال کے تجربات کی روشنی میں حج 2020 ء کے ایکشن پلان کو قطعیت دی جائے گی ۔

انہوں نے بتایا کہ حج سیزن کے اختتام کے ساتھ ہی سنٹرل حج کمیٹی کو کونسل جنرل جدہ اور انڈین حج مشن کی رپورٹ کا انتظار ہے جس میں ایام حج کے دوران حجاج کرام کے قیام اور دیگر سہولتوں کی تفصیل درج رہے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ مدینہ منورہ میں مرکزیہ کے بیرونی علاقہ میں فراہم کردہ رہائش کیلئے 800 ریال پہلے ہی حاصل کئے گئے تھے ۔ واضح رہے کہ حج درخواست فارم میں مدینہ منورہ میں رہائش کیلئے اندرون اور بیرون مرکزیہ زمرہ جات مقرر کئے گئے تھے اور دونوں کیلئے فی حاجی 800 ریال حاصل کئے گئے۔ مدینہ منورہ میں تلنگانہ کے تقریباً 1600 حجاج کرام کی رہائش کا انتظام مرکزیہ سے باہر کیا گیا جو مسجد نبوی سے تقریباً دیڑھ تا دو کیلو میٹر کے فاصلہ پر ہے، جس کے نتیجہ میں حجاج کرام کو پنچ وقتہ نمازوں کے لئے بروقت پہنچنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ اندرون مرکزیہ کی رہائش مسجد نبوی سے اندرون پانچ سو میٹر کے فاصلہ پر تھی۔ اسی دوران تلنگانہ کے حجاج کرام میں شامل حیدرآباد کے مولانا معز اشرفی نے منیٰ میں 2017 ء میں مینوفیکچرنگ تاریخ کے اشیاء کی سربراہی کی شکایت کی۔ انہوں نے کہا کہ بعض خادم الحجاج کی خدمات غیر اطمینان بخش رہی اور ایک خادم الحجاج نے مدینہ منورہ میں حجاج کرام سے ملاقات کی۔ جاریہ سال ایر انڈیا کی خدمات کے بارے میں حجاج نے شکایت کی ہے۔ کئی گھنٹوں تک حجاج کو ایرپورٹ پر انتظار کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا۔ ریاستی حج کمیٹی نے حج 2020 ء کے لئے دوسری ایرلائینس کی خدمات کے سلسلہ میں سنٹرل حج کمیٹی سے سفارش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔