مدینہ منورہ میں مسجد ’’بنی حرام‘‘ کی تزئین و آرائش

   

ریاض: مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور کی مسجد ’’بنی حرام ‘‘ کی تزئین و آرائش کی جارہی ہے۔ مسجد نبوی ؐ سے 1.68 کلومیٹر کی مسافت پر واقع اس مسجد کوتاریخی مساجد کی بحالی کے منصوبے کے دوسرے مرحلے میں شامل کیا گیا ہے۔اس تاریخی مسجد کو 14 صدیاں قبل اس کی فطری شکل کے قریب کی تصویر پر بحال کرنے کے لیے کام شروع کیا جائے گا۔ اس دوران اس میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور اضافے کو بھی دور کیا جائے گا۔ اس کو بحال کرنے کا مقصد اپنی تاریخ میں قابل فخر اور قیمتی اسلامی اور سماجی میراث جو انسانی، ثقافتی اور فکری ماحول سے تشکیل پاتی ہے کو سامنے لانا ہے۔غالباً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہے کہ خندق کھودتے وقت آپ ؐ نے اس جگہ پر نماز پڑھی۔ خزرج بنی سلمہ سے بنی حرام واپس جاتے ہوئے یہ واقعہ پیش آیا۔ شہزادہ محمد بن سلمان کے تاریخی مساجد کی ترقی کے منصوبہ کے ضمن میں مدینہ کے روایتی انداز میں تعمیر مسجد بنی حرام کی تجدید کی جائے گی۔

اس کا رقبہ 226.42 مربع میٹر سے بڑھا کر 236.42 مربع میٹر کر دیا جائے گا۔

اس کی گنجائش 10 مربع میٹر تک برقرار رہے گی۔ اس منصوبے کو مٹی، پتھروں اور درختوں کی لکڑی کے قدرتی مواد کا استعمال کرتے ہوئے دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔ مسجد کی تعمیر کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا فن تعمیر روز افزوں ترقی کر رہا ہے۔ یہ طرز تعمیر موسمی اور قدرتی تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں کٹے ہوئے پتھر اپنی مختلف شکلوں اور سائز میں استعمال ہوتے ہیں۔ اسے مٹی کے مارٹر سے بنایا جاتا ہے۔ چھتوں کی تعمیر میں کھجور کے اجزاء کو استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ چھت بوجھ برداشت کرنے والی ہوگی۔مسجد کے آگے کے حصے بیسالٹ پتھر کا استعمال کیا جائے گا۔تاریخی مساجد کی ترقی کے لیے شہزادہ محمد بن سلمان کا منصوبہ قدیم اور جدید تعمیراتی معیارات کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے رو بہ عمل ہے۔ اس طریقہ کار سے مساجد کے اجزا کو مناسب حد تک پائیداری ملتی ہے۔ یہ منصوبہ ترقی کے اثرات کو ورثے کے ساتھ مربوط کردیتا ہے۔ ان مساجد کی تاریخی خصوصیات برقرار رکھی جا رہی ہیں۔ انہیں تیار کرنے کا عمل وہ سعودی کمپنیاں انجام دے رہی ہیں جو ورثہ کی عمارتوں کی تعمیر میں مہارت رکھتی ہیں۔ یاد رہے تاریخی مساجد کی بحالی کے منصوبے کے دوسرے مرحلہ میں سعودی عرب کے 13 خطوں سے 30 مساجد کی تزئین و آرائش اور تعمیر نو کی جارہی ہے۔اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں بھی 30 تاریخی مساجد کو بحال کیا جاچکا ہے۔