کابل : پاکستانی طالبان نے کابل میں اسلام آباد حکومت کے ساتھ جاری امن مذاکرات میں ’واضح پیش رفت‘ کے بعد فائربندی کی مدت میں غیرمعینہ مدت کے لیے توسیع دے دی ہے۔گزشتہ برس افغان دارالحکومت کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد پاکستان میں تحریک طالبان کے حملوں میں خاصی تیزی دیکھی گئی تھی۔ اسلام آباد حکومت ان حملوں کی ذمہ داری افغان سرزمین پر موجود پاکستانی طالبان پر عائد کرتی ہے۔ گو کہ تحریک طالبان پاکستان TTP میں شامل عسکریت پسندوں کا تعلق پاکستان ہی سے ہے، تاہم یہ گروپ افغان طالبان کے ساتھ قریبی تعلقات کا حامی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کابل میں اسلام آباد حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات افغان طالبان ہی کی ثالثی میں ہو رہے ہیں۔تحریک طالبان پاکستان سے جڑے عسکری گروہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے پاکستانی فورسز اور عام شہری املاک کے خلاف بدترین حملوں میں ملوث رہے ہیں تاہم حالیہ کچھ عرصے میں اسلام آباد حکومت اور عسکریت پسندوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ان مذاکرات کو مزید تقویت تب ملی جب کہ منگل کو پاکستان کے قبائلی عمائدین کا ایک وفد نئے مذاکراتی دور کے لیے کابل پہنچا۔ کابل سے تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، ”گزشتہ دو روز میں اس مذاکراتی عمل میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے، جس کے بعد ٹی ٹی پی نے فائربندی کی مدت میں غیرمعینہ مدت کے لیے توسیع کر دی ہے۔‘‘