دہلی میں نمائندہ اجلاس کی تجویز، سماجی جہد کار مہروز خان کا مشورہ
حیدرآباد۔/21 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) بنگلور سے تعلق رکھنے والے سماجی اور سیاسی جہد کار ایس آر مہروز خان نے ملک کے تمام مذہبی، سیاسی قائدین، دانشوروں اور جہد کاروں کے نام اپیل جاری کرتے ہوئے شہریت قانون اور این آر سی کے قومی سطح پر بائیکاٹ کیلئے نئی دہلی میں مشترکہ اجلاس طلب کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر این آر سی اور شہریت قانون کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے سیول نافرمانی تحریک شروع کی جانی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک کی تائید حاصل کرنے کیلئے ملک کی نامور شخصیتوں نارائن مورتی، انا ہزارے، امیتابھ بچن، رتن ٹاٹا، سچن تنڈولکر، عظیم پریم جی اور دیگر اہم شخصیتوں کو مدعو کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے سیکولر کردار کے تحفظ کیلئے فوری قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ مہروز خان نے مکتوب میں شہریت قانون اور این آر سی کے نقصانات کی تفصیلات بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف دستور کی خلاف ورزی کی گئی ہے بلکہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی سازش ہے۔ موجودہ حکومت ملک کے معماروں اور دستور سازوں کے نظریہ کی خلاف ورزی کررہی ہے۔ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے جو دستور تیار کیا تھا اس کا مذاق اُڑایا جارہا ہے۔ شہریت قانون کا مقصد مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے عوام کے درمیان مذہب کی دیوار کھڑی کرنا ہے۔ ہندوستان اپنے سیکولرازم اور مختلف مذاہب و زبانوں اور تہذیبوں کے گہوارہ کی حیثیت سے دنیا بھر میں اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے۔ موجودہ حالات میں ملک میں نامور شخصیتوں کو فوری مداخلت کرتے ہوئے تحریک کی قیادت کرنی چاہیئے تاکہ تشدد میں مزید معصوم افراد کی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکے۔ سیکولر ہندوستانیوں اور دلتوں کو اس سلسلہ میں اعتماد میں لینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی نامور شخصیتوں کو دلتوں اور دیگر سیکولر قائدین سے رجوع ہوتے ہوئے دستور کے تحفظ کیلئے تائید حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں پُرامن احتجاج کی ضرورت ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ احتجاج اپنے مقصد سے بھٹک جائے۔