نئی دہلی،27جون (سیاست ڈاٹ کام) جھارکھنڈ کے سرائے کیلامیں چوری کے نام پر42 سالہ تبریز انصاری کے ہجومی تشدد کے ذریعہ حالیہ قتل پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے آٓل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدر مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے کہا کہ اس جمہوری ملک میں ہر شہری کو آزادانہ طور پر رہنے اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی دی گئی ہے ، تو پھر مذہبی جبر کی آڑ میں کسی کوزدو کوب اور موت کے گھاٹ اتار دیناآئین کی خلاف ورزی ہے ۔انہوں نے کہاکہ فرقہ پرست عناصر کی غنڈہ گردی اور مختلف بہانوں سے بے قصور مسلمانوں کے زد و کوب کے سنگین معاملات اور ان کے بہیمانہ قتل پر شدیدناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت-۲ میں بھی مسلمانوں اور اقلیتوں مظالم کم نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سخت گیر عناصر کی پشت پناہی کی جارہی ہے اور انھیں بے قصور شہریوں، خصوصا اقلیتوں اور دلتوں کے خلاف مظالم پر کھلی چھوٹ دی جارہی ہے ۔ مولانا نے الزام لگایا کہ دادری میں اخلاق احمد، میوات میں پہلو خان،راجستھان میں افرازل اور جھارکھنڈ میں تبریز انصاری کے قتل کے پیچھے کار فرما ذہنیت پر غور کیا جائے تو یہی نکتہ ابھر کر سامنے آتا ہے کہ موجودہ مرکزی حکومت اپنی سیاسی نا کامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے مذہب کی پناہ لے رہی ہے ۔ وہ مندر مسجد، گائے ، لو جہاد، تبدیلی مذہب، گھر واپسی، جے شری رام، بھارت ماتا کی جے اور دوسرے مذہبی تنازعات میں ہندو مسلمان اور پورے ملک کو الجھا کر رکھنا چاہتی ہے ۔ وہ ہند ومسلم کارڈ کھیل کر پورے ملک میں یہ فضا قائم کرنا چاہتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح شر پسند عناصر ملک کے گوشے گوشے میں نفرت، تشدد اور قتل و غارت گری پر اترے ہوئے ہیں اس سے اس ملک کی عالمی پیمانے پر شبیہ مجروح ہورہی ہے ، ہندستان میں عدم تحفظ کے خطرات کی وجہ سے دوسرے یورپی ممالک کے تاجر بغرض تجارت آنے سے کترانے لگے ہیں، جس کی وجہ سے یہاں کی اقتصادی شرح نموبھی کم ہورہی ہے اور یہاں کی معیشت دم توڑ رہی ہے ۔ انھوں نے مسلم تنظیموں، مختلف جماعتوں اور ملک کے انصاف پسند افراد سے ملک کی اقلیتوں کو تحفظ کے معاملے کو سڑک سے لے کر عدالت تک اٹھانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایک مخصوص طبقہ کے افراد کے دل میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور انھیں ملک کے نقشہ میں پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرنا، انھیں مذہبی تشدد کے ذریعے ماردینا جمہوری ملک کی پیشانی پر بد نما داغ ہے ، جس کے خلاف ہمیں متحد ہونا ہوگا۔۔