مذہبی خبریں

   

عید الفطر کا دن یوم الرحمۃ ،انعامات خداوندی سے ایک ممتاز انعام
ڈاکٹر مفتی حافظ محمد مستان علی قادری کا خطاب

حیدرآباد 22 مارچ (راست) ڈاکٹر مفتی محمد مستان علی قادری ناظم اعلیٰ جامعۃ المؤمنات نے قبل نماز عید الفطر جامع مسجد محمدی ساؤتھ لالہ گوڑہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عید الفطرانعامات خداوندی سے ایک ممتاز انعام ہے اور بخشش خداوندی سے ایک گراںقدر، بیش وبہا بخششوں کا گنجینہ ہے ،اسلامی دسواں مہینہ کا نام شوال المکرم ہے ، حضور کرم ﷺ نے فرمایا جب عید الفطر کا دن آتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کیلئے فرشتوں کے سامنے فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ اس مزدور کی کیا مزدوری ہے جس نے اپنا کام پورا کیا ،حضور ﷺ عید الفطر کے دن کچھ کھا کر نماز کیلئے تشریف لے جاتے ،عید الفطر کو یوم الرحمۃ بھی کہتے ہیں کیوں کہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت فرماتا ہے ۔ رب تعالیٰ کا ہم پر کرم ہے اسلئے کہ ماہ رمضان المبارک کے فوراً ہی بعد عید الفطر جیسی عظیم نعمت سے سرفراز فرمایا، حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں اپنی عیدوں کو تکبیروں سے زینت بخشو ۔حضور ﷺنے فرمایا جس شخص نے عید کے دن 300مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ پڑھ کر ثواب پہچائے توقبر پر انوار کی بارش ہوگی۔ حضور ﷺ جب ہجرت فرماکر مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ کے لوگ سال میں دو دن خوشی مناتے تھے ۔ حضرت سیدنا وھب بن منبہ ؓ فرماتے ہیں جب بھی عید آتی ہے شیطان چلاچلا کر روتا ہے اسکی بد حواسی دیکھ کر تمام شیاطین اس کے گرد جمع ہوکر پوچھتے ہیں آپ کیوں غضبناک اور اداس ہیں وہ کہتا ہے ہائے افسوس اللہ تعالیٰ نے آج کے دن امت محمدیہﷺ کو بخش دیا ہے لہذا تم انہیں لذت اور نفسانی خواہشات میں مشغول کردو۔مفتی محمد مستان علی نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گذاریں اسی سے دنیا وآخرت میں کامیابی ہے۔

نفرتوں کے اندھیروں میں عید کا چراغ ، امت کیلئے اتحاد
ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
حیدرآباد 22 مارچ (پریس ریلیز) رمضان کی روحانی ساعتیں جب اپنے اختتام کو پہنچتی ہیں اور بندۂ مومن اپنے رب کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوکر مغفرت، رحمت اور نجات کے پروانے حاصل کرتا ہے تو اسی کے صلہ میں عیدالفطر کی خوشیوں بھری صبح طلوع ہوتی ہے۔ یہ محض ایک تہوار نہیں بلکہ دلوں کی کدورتیں مٹانے، نفرتوں کو ختم کرنے اور محبت و اخوت کے چراغ روشن کرنے کا پیغام لے کر آتی ہے۔ خطیب و امام مسجد حج ہاؤز مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے حج ہاؤز میںخطاب کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق عیدالفطر محض خوشی اور تفریح کا نام نہیں بلکہ یہ تزکیہ نفس، تصفیہ قلب اور اخلاص و ایثار کا عملی مظہر ہے۔ عید کے دن جہاں ایک طرف خوشیوں کی بہار ہوتی ہے وہیں ہمارے آقا حضور نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ان خوشیوں میں یتیموں اور محروم بچوں کو بھی شریک کیا جائے۔ مولانا نے امتِ مسلمہ کو پیغام دیا کہ ’آؤ! اس عید پر ہم عہد کریں کہ نفرتوں کو ختم کریں گے، محبتوں کو عام کریں گے، ٹوٹے رشتوں کو جوڑیں گے اور ایک مضبوط، متحد اور بااخلاق معاشرہ قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہی عید کا حقیقی پیغام اور کامیابی کا راستہ ہے۔‘

عید انعام و اکرام کا دن اہل ایمان کیلئے مغفرت کا مژدہ
عیدگاہ گنبدان قطب شاہی میں نماز عید سے قبل مولانا متین علی شاہ کا خطاب

حیدرآباد 21 مارچ (راست) عید انعام و اکرام کا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ ایل ایمان کیلئے مغفرت عطا فرماتا ہے۔ مسلمان اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں . اور عالمی امن و امان کیلئے دعاوں کا سلسلہ جاری رکھیں۔ ان خیالات کا اظہار مولانا سید متین علی شاہ قادری خطیب عیدگاہ گنبدان قطب شاہی نے عید الفطر کے اجتماع سے خطاب میںکیا۔ انھوں نے کہا کہ عید تہذیب و شائستگی کا یوم ، مسرت ، اسلام کی عظمت روایات کی علامت ہے۔ رمضان المبارک کے بعد بھی رمضان کے حقیقی جذبہ کو باقی و برقرار رکھا جائے اور ساتھ ہی عبادات خیر خواہی کے سلسلہ کو جاری و ساری رکھیں۔ مولانا نے کہا کہ آج ہم عید منارہے ہیں لیکن ہمارے دل جذبات سے لبریز ہیں اس کی وجہ یہ کہ دشمنان اسلام سوچے سمجھے منصوبے و ملی بھگت سے اسلامی ممالک کو جنگ و جدال کی لپیٹ میں لا کھڑا کئے ہیں۔ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ سفارتی کوششوں کے زریعہ امن و امان کی فضاء اور اس کے لیے راہیں ہموار کریں۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مسلسل حملے انسانی اقدار، اصولوں اور بین الا قوامی قوانیںن کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔ مولانا متین علی شاہ قادری نے عوام سے اپیل کی آپسی اتحاد و اتفاق کوبرقرار رکھیں جس کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ آج ہم عید کے موقع پر عالم اسلام کے مظلوم بھائیوں کے ساتھ اظہار یگانگت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ طاقتور ہیں اور دولت سے مالامال ہے ان کے مقابلہ میں فلسطینی اور ایرانی دولت ایمان سے مالا مال ہے اس لئے وہ اپنی ایمانی قوت و طاقت کے بناء ڈٹے ہوئے ہیں۔ جناب کوثر محی الدین رکن اسمبلی حلقہ کاروان کی نگرانی میں بلدی، آبرسانی، برقی محکمہ پولیس و آرٹی سی سے مصلیان کیلئے انتظامات کئے گئے۔ مسرس حبیب زین العابدین عابد، عزیزخان پٹھان ، شکیل علی خان ، محمد قدیر امین پاشاہ ہارون فرحان کارپوریٹر و دیگر نے انتظامات میں حصہ لیا ۔ گورنمنٹ سیول ہاسپٹل سے عیدگاہ میں میڈیکل کیمپ لگایا گیا۔ ہندو بھائیوں اور دیگر مذاہب کے نمائندوں نے مصلیوں سے بغلگیر ہوکر مبارکباد پیش کی ۔

ماہ رمضان کے بعد بھی عبادات کا سلسلہ جاری رکھا جائے
عید گاہ شمس آباد میں نماز کی ادائیگی۔ مولانا سیدمصطفی علی صوفی سعید پاشاہ کا خطاب

شمس آباد 22 مارچ (سیاست نیوز) عیدگاہ شمس آباد میں سینکڑوں مسلمانوں نے عیدالفطر کی نماز خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کی۔ مولانا سید مصطفی علی صوفی سعید پاشاہ قادری امام و خطیب عیدگاہ شمس آباد نے رمضان کے فضائل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مولانا نے کہاکہ مسلمان جس طرح ماہ رمضان میں مساجد کو آباد رکھتے ہیں، خدا کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں، پنجوقتہ نمازوں کی پابندی کرتے ہیں، اِسی طرح رمضان کے بعد بھی خدا کی عبادت میں مشغول رہتے ہوئے پنجوقتہ نمازوں کی پابندی کرنی چاہئے۔ خدا کی عبادت کرنے سے ہی ہماری دنیا اور آخرت بہتر ہوگی۔ والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو دینی تعلیم دلائیں جس سے انھیں ہمارے اسلام کی تعلیمات کی معلومات حاصل ہوں گی، جس سے نوجوان بُری عادتوں سے دور رہ سکتی ہے ۔ مولانا نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں جب تک ہم ایک نہیں ہوں گے ظالم ہم پر ظلم کرتا رہے گا۔ مولانا نے اپنی دعا میں مسلمانوں کی سربلندی اور دشمنان اسلام کے خاتمہ کیلئے دعا کی۔ پولیس کی جانب سے حفاظتی انتظامات کئے گئے۔ کانگریس قائدین سنجے یادو، سریدھر یادو، نریندر و دیگر قائدین نے عیدگاہ پر مسلمانوں کو مبارکباد پیش کی۔

امانتیںکسی خیانت کے بغیر پہونچانا عین سنت رسول ﷺ
جامع مسجد مہدویہ مشیر آباد میںمولانا سید بختیار عالم کا خطاب

حیدرآباد۔22مارچ(پریس نوٹ) مولانا سید بختیا ر عالم نے خطبہ عید الفطر کے موقع امانتوں کی خصوصیات پر بیان کیا اور شب ہجرت سرور انبیاء ﷺ کے پاس موجود مکہ والوں کی امانتیں سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے سپر د کرنے کا واقعہ بیان کیا۔جامع مسجد مہدویہ مشیر آباد میں خطبہ عید الفطر میں انہوں نے امانتوں کو بغیر کسی خیانت کے جس کی امانت ہے اس تک پہنچانے کے متعلق قرآنی حکم کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہاکہ امانت کو بغیر کسی خیانت پہنچانا عین سنتِ رسول مقبولﷺ ہے۔انہوں نے اپنے وقت کے بڑے ولی حضرت ذوالنون مصری ؒ کا بھی ایک واقعہ بیان کیا ۔ انہوں نے کہاکہ ایک شخص نے حضرت مصریؒ کی صحبت اختیار کی اور اسم اعظم کی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی ۔مگر وہ شخص حضرت ذوالنون مصریؒ کے امتحان میںناکام ہوا اور امانت کی پاسداری نہیںکرسکا۔مولانا بختیا رعالم نے عید کے موقع پر حضرت علی ابن ابی طالبؓ کے سوکھی روٹی نوش فرمانے اور ایک شخص کے سوال پر جواب کا حوالہ دیا اور کہاکہ اگر بحیثیت مسلمان ہم اپنی زندگیوں کوگناہ سے پاک رکھیں تو یقینا ہمارا ہر دن عید سے کم نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ ایک ماہ کی عبادتیں ہم نے کیں‘ نمازیں او رزکوۃ ادا کی ‘ قرآن مجید کی تلاوتیں کیں‘ تروایح کا اہتمام کیا ۔ خشوع وخضوع کے ساتھ ماہ صیام میں عبادتیں کیں اللہ ہماری ان ساری عبادتوں کو قبول فرمائے ہیں اور ہماری تمام جائز دعائوں کو بھی شرف قبولیت بخشے۔متولی جامع مسجد مہدویہ مشیر آباد مولانا سید خوندمیر اشرفی نے نماز کے انتظام اور انصرام میں تعاون کرنے والے مصلیان مسجد اور مقامی عوام کا شکریہ ادا کیا اور تمام عالم اسلام کو عید الفطر کی مبارکباد بھی پیش کی۔