مذہبی منافرت میں اضافہ ملک کے مستقبل کیلئے خطرناک

   

ممبئی : ملک کے اندر گذشتہ دوچار دنوں میں جس طرح سے کئی ایک انتہائی قابل مذمت اور شرمناک سانحات پیش آئے وہ تمام سنجیدہ شہریوں کے لئے کافی تشویشناک ہیں .منی پور میں مذہب اورذات کے نام جو کچھ ہورہا ہے ،پورا منی پور جل رہا ہے ، ، اسی طرح ابھی حالیہ دنون میں ایک پی. آر.ایف کانسٹیبل ٹرین میں داڑھی والوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر گولیوں سے جس خونی انداز میں بھون دیتا ہے ، ہریانہ میں مسجد نذر آتش کردی گئی اور مسجد کے امام کو دھار دار چاقؤوں سے شہید کردیا گیا،یہ سارے واقعات مذہبی منافرت اور ملک میں نفرت وتشدد کے ماحول کا منظر نامہ بیاں کررہے ہیں، اوراندازہ ہورہا کہ کس طرح مذہبی منافرت کی جڑیں دن بدن مضبوط اور گہری ہوتی جارہی ہیں، پوری ملت اسلامیہ، ملی ذمہ داران اور تمام امن پسند ہندوستانیوں کے لئے بہت ہی تشویشناک ہیں اور لمحہ فکریہ ہیں۔ان خیالات کا اظہار دارالحکمہ اسلامک اینڈ ایجوکیشنل سینٹر ، ساکی ناکہ کے چیئرمین، و معروف عالم دین مولانا عاطف سنابلی نے کیا -انہوں نے کہا کہ آج صورتحال یہ بن چکی ہے کہ مسافروں کی جان ومال اور عزت وآبرو کا محافظ قاتل بن چکا ہے ، مذہب اور ذات برادری کے نام پر خواتین کے ساتھ گھناؤناسلوک کا مظاہرہ کیا گیا جس سے پوری پورے ملک میں تشویش وخوف کا ماحول ہے ۔