مذہبی منافرت کے ذریعہ تلنگانہ کو کمزور کرنے کی سازش کے خلاف کے سی آر کا انتباہ

   


مرکز پر ریاستوں کو غیر مستحکم کرنے کا الزام ، آخری سانس تک تلنگانہ کا تحفظ کروں گا، رنگا ریڈی میں چیف منسٹر کا جلسہ عام سے خطاب
حیدرآباد ۔25۔اگست (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مرکز کی بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے غیر بی جے پی حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کیا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مذہب کے نام پر منافرت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ تلنگانہ کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی جائے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ میں جب تک زندہ رہوں گا تلنگانہ کی ترقی کی راہ میں کسی بھی رکاوٹ کا مقابلہ کروں گا۔ چیف منسٹر آج رنگا ریڈی ضلع کے ابراہیم پٹنم میں نئے کلکٹریٹ کی عمارت اور ٹی آر ایس پارٹی کے نئے دفتر کے افتتاح کے بعد جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ چیف منسٹر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی کی مذہبی سیاست کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار رہیں تاکہ تلنگانہ ہر شعبہ میں ترقی کرسکے۔ کے سی آر نے عوام سے سوال کیا کہ انہیں سنہری فصل اگانے والا تلنگانہ چاہئے یا پھر مذہب کے نام پر آگ اگلنے والا تلنگانہ چاہئے ۔ عوام کو اس بات کا فیصلہ کرنا چاہئے۔ 58 برس کی طویل جدوجہد کے ذریعہ نئی ریاست عوام کی بھلائی اور ترقی کے لئے حاصل کی گئی لیکن بعض طاقتیں سماج کو مذہب کے نام پر تقسیم کرتے ہوئے ترقی کا عمل روکنا چاہتی ہے۔ چیف منسٹر نے دانشوروں اور تعلیم یافتہ طبقہ سے اپیل کی کہ وہ عوام میں شعور بیداری کیلئے کام کریں۔ تلنگانہ ایک طویل جدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے۔ تلنگانہ کو آندھراپردیش سے آزاد کرانے کیلئے 58 برس کی جدوجہد میں کئی قربانیاں دی گئیں۔ اگر تلنگانہ پہلے کی طرح آندھراپردیش کا حصہ رہتا تو ناانصافیوں کا دور جاری رہتا۔ کے سی آر نے کہا کہ کسانوں کو 24 گھنٹے مفت برقی کی سربراہی کے علاوہ رعیتو بندھو اور رعیتو بیمہ جیسی اسکیمات ملک کی کسی بھی ریاست میں نہیں ہے۔ کسان کی موت کی صورت میں اندرون 10 یوم رعیتو بیمہ اسکیم کے تحت 5 لاکھ روپئے بینک اکاؤنٹ میں جمع کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کا تحفظ کرنا عوام کی ذمہ داری ہے۔ مرکز پر ریاستوں کو غیر مستحکم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ملک کی بعض ریاستوں میں غیر جمہوری انداز میں حکومتوں کو معزول کیا گیا۔ ہم اس طرح کی کسی بھی کوشش کو ہرگز کامیاب ہونے نہیں دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک خوشحال رہے اور تلنگانہ بھی خوشحال رہ سکتا ہے ، لہذا مرکز میں ایسی حکومت ضروری ہے جو عوامی بھلائی کو ترجیح دے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے گزشتہ 8 برسوں میں تلنگانہ کی طرح فلاحی اسکیمات پر عمل نہیں کیا ہے۔ کے سی آر نے سوال کیا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت نے آج تک عوام کی بھلائی کا کونسا کام انجام دیا ہے ۔ جس وقت میں چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہوا ، نریندر مودی بھی وزیراعظم کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ تلنگانہ میں ہر شعبہ کو 24 گھنٹے برقی سربراہ کی جارہی ہے جبکہ ملک میں کوئی بھی ریاست بلا وقفہ سربراہی کا ریکارڈ نہیں رکھتی ۔ حیدرآباد میں 24 گھنٹے برقی سربراہی کا نظم ہے لیکن ملک کے دارالحکومت دہلی میں برقی کٹوتی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے ابھی تک 9 ریاستوں میں عوامی منتخب حکومتوں کو غیر مستحکم کیا ہے۔ ٹاملناڈو میں اسٹالن ، دہلی میں کجریوال اور مغربی بنگال میں ممتا بنرجی حکومتوں کو معزول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کیا یہی جمہوریت ہے ؟ کیا یہی سیاست ہے ؟ اس کا جواب وزیراعظم کو دینا چاہئے ۔ کے سی آر نے کہا کہ ووٹ حاصل کرنے کیلئے گھٹیا سیاست کے ذریعہ سماج کو توڑنے کی کوشش افسوسناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شائد نریندر مودی کو وزیراعظم کا عہدہ کافی نہیں ہے۔ تلنگانہ میں گزشتہ 8 برسوں سے امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار ہے۔ میں جب تک زندہ رہوں گا ، تلنگانہ ریاست کو کمزور ہونے نہیں دوں گا۔ مجھے آپ کا تعاون چاہئے ۔ چیف منسٹر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سماج کو توڑنے والی طاقتوں کے خلاف چوکس رہیں۔ 44 ایکر پر 58 کروڑ کے خرچ سے عصری سہولتوں سے آراستہ کلکٹریٹ تعمیر کیا گیا ہے ۔اس تقریب میں چیف سکریٹری سومیش کمار ، ریاستی وزراء سبیتا اندرا ریڈی ، پرشانت ریڈی ، ضلع کلکٹر اموئے کمار ، رکن پارلیمنٹ رنجیت ریڈی کے علاوہ مہیشورم ، کلواکرتی ، شادنگر ، راجندر نگر ، چیوڑلہ اور ایل بی نگر حلقہ جات سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں نے شرکت کی۔ر