مذہب کو رسوا کرنے قومی ذرائع ابلاغ اور سوشیل میڈیا کی بے بنیاد اور من گھڑت کہانیاں

   

حیدرآباد شہر کے قبرستان میں جگہ محفوظ رکھنے کو پاکستانی قبر ہونے کا دعویٰ، مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش

حیدرآباد۔30اپریل(سیاست نیوز) مذہب کو رسواء کرنے کے لئے قومی ذرائع ابلاغ اور مسلم دشمن عناصر نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی قبر کی ایک تصویر کے ساتھ بے بنیاد من گھڑت کھانیاں گڑھتے ہوئے نہ صرف پڑوسی ملک پاکستان بلکہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی لیکن آج اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ یہ قبر پڑوسی ملک یا ہندستان کی کسی ریاست کی نہیں بلکہ شہر حیدرآباد کے پرانے شہر میں واقع قبرستان کی ہے جہاں مرحوم کے ورثاء نے اس قبر میں جو مٹی کی ہے اس میں کسی اور کی تدفین نہ ہو اس کے لئے جگہ کو محفوظ کیا ہے۔ گذشتہ چند یوم سے سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی تصویر کو گذشتہ یوم پاکستان کے قبرستان کی قرار دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیاتھا کہ اس قبر کو مرحومہ کے والدین نے نعش کی حرمت کو پامال ہونے سے بچانے کے لئے گیٹ لگاتے ہوئے تالا ڈالا ہے۔ شہر حیدرآباد کے علاقہ مادننا پیٹ میں واقع قبرستان جامع مسجد و مقبرہ سالار الملک کے قبرستان میں مدفون اس خاتون کے رشتہ داروں سے رابطہ تو نہیں ہوپایا لیکن قبرستان و مسجد کے ذمہ داروں نے اس بات کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ اس قبرکو ورثاء نے جو مقفل کیا ہے ان کا مقصد قبر میں کسی اور کو تدفین کی گنجائش نہ رہے اسی لئے جالی لگائی گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق جالی لگانے پر ابتداء میں ہی اعتراض کیا گیا تھا لیکن مرحومہ کے ورثاء نے اس جگہ کے تحفظ اور مٹی کی قبر ہونے کے سبب اسے مٹائے جانے سے محفوظ رکھنے اور اس کی جگہ کسی اور تدفین نہ ہونے دینے کا استدلال پیش کرتے ہوئے جالی نصب کی ہے۔ قومی ذرائع ابلاغ اداروں کے علاوہ قومی ایجنسیوں نے اس قبر کے متعلق تحقیق کے بغیر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر کو بنیاد بناتے ہوئے جو کہانی گڑھی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو اور ان سے جڑی چیزوں کو بدنام کرنے میں میڈیا کس قدر معاون ثابت ہورہا ہے۔ سوشل میڈیا پر گشت کرنے والی ہر خبر یا دعویٰ درست نہیں ہوتا یہ بات بھی اس بے بنیاد اور من گھڑت خبر سے واضح ہوچکی ہے اور کسی بھی مذہب‘ ادارہ ‘ شخصیت کو بدنام کرنے کے لئے سوشل میڈیا کا جس غیر ذمہ داری سے استعمال کیا جا رہا ہے یہ اس کی دلیل ہے۔