مذہب کے نام پر سیاست، مہنگائی وبیروزگاری پر نہیں : شردپوار

   

ممبئی : سینئر لیڈر شرد پوار نے کہا کہ ہم پچھلے کچھ دنوں سے ملک میں مذہب اور ذات پات کے نام پر سیاست ہورہی ہے اور ملک کو پیچھے لے جانے کا کام کیا جا رہا ہے لیکن لوگوں کے اصل مسائل کیا ہیں؟ بڑھتی ہوئی مہنگائی، خوراک اور بیروزگاری پر بات ہونی چاہیے لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ ملک بھر میں فرقہ وارانہ تشدد اور بحث و مباحثہ جاری ہے۔ چاہے وہ تہواروں کے موقع پر پتھراؤ ہو یا لاؤڈ اسپیکر اور ہنومان چالیسہ پر جھگڑا۔ ایسے تمام معاملات پر سیاسی ہنگامہ آرائی جاری ہے۔ این سی پی سربراہ شرد پوار نے کہا کہ اہم مسائل کو چھوڑ کر ملک میں ذات پات اور مذہب جیسے مسائل پر بحث چل رہی ہے، جس کی وجہ سے ملک پسماندگی کی طرف جا رہا ہے۔ پوار نے مزید کہا کہ آج اگر آپ ٹی وی کھولیں اور دیکھیں تو کوئی کہتا ہے کہ وہ میٹنگ منعقد کرنے جارہے ہیں، جبکہ دوسرا کہتا ہیکہ وہ ہنومان چالیسہ پڑھنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ تمام سوالات آپ کے بنیادی مسائل کا حل ہیں؟ ان سب سے لڑنے کے لیے ہمیں ساہو مہاراج اور بابا صاحب امبیڈکر کے راستے پر چلنا ہوگا۔ اس سے قبل شرد پوار الزام لگایا کہ دہلی کی طرح مہاراشٹرا میں بھی فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ماحول کو خراب کرنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو مسلم سماج کو بھائی چارہ برقرار رکھنا چاہئے۔