عوام نے انتشارپسندانہ پالیسیوں کو مسترد کردیا ، دہلی انتخابی نتائج پر کانگریس لیڈر کا ردعمل
بنگلورو۔13فبروری ( سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے سینئر لیڈر ملکارجن کھرگے نے آج کہا کہ دہلی اسمبلی انتخابات کے نتائج سے واضح ہوجاتا ہے کہ عوام نے بی جے پی کی ’’انتشار پسندانہ‘‘ سیاست سے خود کو دور رکھا ہے ۔ لہذا بی جے پی کو اس بدترین ناکامی کی وجوہات کا پتہ چلانے کیلئے خوداحتسابی ضروری ہے ۔ کھرگے نے کہا کہ انتخابات میں کامیابی اور ناکامی عام بات ہے ۔ کانگریس نے بھی انتخابی مہم میں کوئی کوتاہی نہیں کی تھی لیکن اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی ۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کھرگے نے کہا کہ لیکن ایک چیز ضرور یہ ہے کہ جو لوگ مذہب کے نام پر کامیاب ہونے کا غرور رکھتے تھے آج ان کا غرور چکنا چور ہوگیا ہے ۔ دہلی اسمبلی انتخابات کیلئے وزیراعظم نریندر مودی سے لیکر وزیرداخلہ ،کئی وزراء ، چیف منسٹرس ، ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی نے انتخابی مہم چلائی تھی ۔ اس کے باوجود بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ انتخابات لڑنے کیلئے جو اصول اس نے بنالئے ہیں اس میں وہ کامیاب نہ ہوسکی ۔ جس بنیاد پر بی جے پی قائدین نے مہم چلائی تھی عوام نے اسے پسند نہیں کیا اور بی جے پی کی انتشارپسندانہ پالیسیوں سے دہلی کے رائے دہندوں نے خود کو دور رکھا ۔ ان انتخابات میں کانگریس کے مظاہرے سے متعلق کھرگے نے کہا کہ اس ناکامی کی وجوہات کا ہم ورکنگ کمیٹی میں غور کریں گے اور اپنی ناکامیوں و کوتاہیوں کا جائزہ لیں گے ۔ ہماری ناکامی کی بنیادی وجوہات کیا ہیں اس پر توجہ دی جائے گی ۔
اروند کجریوال زیر قیادت عام آدمی پارٹی نے دہلی میں 8فبروری کو منعقدہ اسمبلی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے ۔ اس نے اپنی اصل حریف بی جے پی کو شرمناک شکست دی ہے ۔ ان انتخابات اگرچیکہ کانگریس کو بھی شکست ہوئی ہے لیکن اصل مقابلہ سی اے اے کے خلاف جاری احتجاج کے درمیان تھا ۔ کانگریس کو دہلی اسمبلی انتخابات میں ایک بھی نشست نہیں ملی اور اس کا ووٹ فیصد بھی 4.26 فیصد پر آکر رک گیا ۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ آیا عام آدمی پارٹی کی ترقیاتی پالیسیاں اور سیاست نے اس کے حق میں کام کیا ہے ۔ کانگریس کے بزرگ لیڈر نے کہا کہ بعض اوقات ترقیاتی ایجنڈے کام کرجاتے ہیں اور بعض اوقات جذباتی مسائل سے ووٹ حاصل ہوتے ہیں ۔ جھوٹے وعدوں سے بھی ووٹ مل جاتے ہیں ۔ اس وقت جو کامیابی ملی ہے وہ ترقی کی بنیادوں پر حاصل ہوئی ہیں ۔ کھرگے نے ناکامی سے متعلق اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گلبرگہ میں کئی ترقیاتی کام انجام دیئے تھے لیکن انہیں ناکامی ہوئی۔
