مراد آباد کے گودام میں نماز تراویح کی ادائیگی پر 10 مسلمانوں کو نوٹس

   

بجرنگ دل کے احتجاج پر کارروائی، کسی کو نئی روایات قائم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ، بجرنگ لیڈر کا بیان

مرادآباد: گزشتہ دو دن سے اتر پردیش کا ایک ایسا واقعہ اور ویڈیوسوشل میڈیا پر چھایا ہواہے جو کہ صنعتی طور پرمشہور مرادآباد کاہے۔میڈیا اطلاعات کے مطابق ہندوتواتنظیم بجرنگ دل سیوابستہ افرادنے ہفتہ 25 مارچ کو اترپردیش کے مرادآباد میں ایک گودام میں تراویح کی نماز ادا کرنے والے مسلمانوں کے ایک گروپ کے خلاف احتجاج کیا۔دی وائر (انگریزی) کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے وہاں موجود 10 مسلمانوں کو CrPC 107/116 (امن کی خلاف ورزی سے بچنے کیلئے ایک احتیاطی اقدام) کے تحت نوٹس جاری کیا اور جائیداد کے مالک مسلمان خاندان کو ہدایت دی ہے کہ کوئی اجتماعی نماز نہ ادا کریں۔ پولیس نے مسلم طبقہ کے ارکان سے یہ بھی پوچھا ہے کہ ان کی جانب سے اس علاقے میں ’’ امن کو خراب کرنے ‘‘کے جرم میں فی کس 5 لاکھ روپے کیوں ادا نہ کیے جائیں۔؟ پولیس کی نوٹس اور تراویح کی نماز کی ادائیگی کو جرم قرار دیتے ہوئے فی کس پانچ لاکھ روپئے کی ادائیگی کے سیدھے حکم کے بجائے مسلمانوں سے ہی استفسار پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔اس کے بعد بیان میں کہا گیاکہ پولیس نے وہاں کے مسلمانوں سے کہا کہ وہ روایت کے مطابق ’’ پہلے سے موجود مذہبی مقامات ’’ میں یا انفرادی طور پر اپنے گھروں پر ایسے پروگرام کا انعقادکرلیں۔اطلاعات کے مطابق جائیداد مالک نے پولیس کو تحریری تیقن دیا ہے کہ آئندہ ان کے گودام میں ایسا کوئی تراویح یا اجتماعی نماز کا اہتمام نہیں کیا جائے گا۔!!اس واقعہ کے متعلق بجرنگ دل کی اتر پردیش یونٹ کے صدر روہن سکسینہ کا ایک ویڈیو بھی وائرل ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ کسی کو’’ نئی روایات’’ قائم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔’’ہم نے پولیس سے کہا ہے کہ جو لوگ نئی روایات، اور شہر کے امن کو خراب کرنا چاہتے ہیں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جانا چاہئے۔ہم کسی نئی روایت کی اجازت نہیں دیں گے۔نہ صرف مراد آباد بلکہ پورے اتر پردیش میں مسلمانوں کو ایسی اجازت نہیں دی جائے گی۔اس نے دھمکی بھی دی کہ اگر ان مسلمانوں کیخلاف کیس درج نہیں کیا جائے گا تو بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔دوسری جانب کل 27 مارچ کو اس معاملہ میں مراد آباد پولیس کے ٹوئٹر ہیندل سے ایس ایس پی مرادآباد ہیمراج مینا کا ایک ویڈیو بھی ٹوئٹ کیا گیا ہے۔جس میں ایس ایس پی نے عوام کو پیغام دیاہیکہ کسی بھی شخص کو دوسروں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں ہے۔’’اگر کوئی شخص نماز،تراویح یا پوجاپاٹھ پڑھ رہا ہے،تو کسی دوسری جماعت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوناچاہئے۔
اگر کوئی ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔مانا جارہا ہے کہ ہر طرف سے تنقید کے بعد مراد آباد پولیس نے نرم رویہ اختیار کیا۔؟؟