مراٹھا تحفظات مسئلہ میں شدت ، نوجوان کی خود کشی،مراٹھا تحریک کے ذریعہ حکومت پر تحفظات فراہمی پر زور

   

حیدرآباد۔23۔اکٹوبر(سیاست نیوز) مراٹھا تحفظات مسئلہ شدت اختیار کرنے لگا ہے ۔ چھترپتی سامبھاجی نگر(اورنگ آباد ) میں شبھم پوار نامی 24سالہ نوجوان نے مراٹھا تحفظات کا مطالبہ کرتے ہوئے خودکشی کرلی۔ مراٹھا تحفظات معاملہ تحریک تلنگانہ کی طرح ہونے لگا ہے اورنوجوان اپنی جان دیتے ہوئے حکومت کو مراٹھا تحفظات کو یقینی بنانے کیلئے متوجہ کروانے لگے ہیں۔ محکمہ پولیس کے ذرائع کے مطابق مراٹھا تحفظات کیلئے جاری جدوجہد کے دوران شبھم کی خودکشی چوتھی خودکشی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ مراٹھا کوٹہ کیلئے جدوجہد کرنے والے نوجوانوں میں منوج جارانگے کی خودکشی کے بعد یہ رجحان شروع ہوا جو کہ شدت اختیار کرنے لگا ہے۔ اردھا پور تعلقہ ناندیڑ ضلع سے تعلق رکھنے والا نوجوان جو کہ ممبئی میں چھوٹی موٹی ملازمتیں کیا کرتا تھا اس نے ممبئی سے ناندیڑ اپنی بہن سے ملاقات کیلئے روانگی کا اظہار کر کے اپنے گھر سے روانہ ہوا تھا ۔ شبھم کے واپس نہ ہونے پر اس کے والدین نے پولیس میں اس بات کی شکایت کی جس پر پولیس نے شبھم کے فون کے لوکیشن کی جانچ کے ساتھ تحقیقات شروع کی جس پر شبھم کی نعش پولیس کو دستیاب ہوئی ۔