مراٹھا کوٹہ کو فیصد میں کمی کے ساتھ ہائی کورٹ کی منظوری

   

۔ 50 فیصد سے تجاوز نہ کرنے کا مشورہ، ڈیویژن بنچ کا فیصلہ
ممبئی۔28 جون (سیاست ڈاٹ کام) بامبے ہائی کورٹ نے مہاراشٹرا میں تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں مراٹھا طبقہ کے لیے تحفظات کی دستوری افادیت کو برقرار رکھا ہے لیکن یہ بھی ہدایت دی ہے کہ ان تحفظات کو 16 فیصد سے گھٹاکر 12 اور 13 فیصد کیا جائے۔ جسٹس رنجیت مورے اور بھارتی ڈینگرے کی زیر قیادت ایک ڈیویژن بنچ نے اپنے 487 صفحات کے فیصلے میں کہا کہ مکمل تحفظات کی حد 50 فیصد ہونی چاہئے۔ سپریم کورٹ نے 50 فیصد تک تحفظات فراہم کرنے کی رعایت دی ہے۔ اس سے اضافہ بہت ہی ناگزیر حالات میں کیا جاسکتا ہے۔ ہائی کورٹ نے مہاراشٹرا حکومت کی اس دلیل کو قبول کیا کہ مراٹھا طبقہ سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ ہے۔ ان کی ترقی کے لیے اقدامات کرنا حکومت کا فرض ہے جبکہ تحفظات کارآمد ہیں البتہ اس کی شرح 16 فیصد غیر منصفانہ ہے۔ جج نے کہا کہ تحفظات کے کوٹے کو 16 فیصد سے گھٹاکر 12 اور 13 فیصد کیا جائے جیسا کہ ریاستی پسماندہ طبقات کمیشن نے سفارش کی ہے۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں مہاراشٹرا مراٹھوں کے لیے تعلیمی شعبہ میں 12 فیصد کا کوٹہ اور سرکاری ملازمتوں میں 13 فیصد کوٹہ فراہم کرنے کی سفارش کی تھی۔ بامبے ہائی کورٹ میں مراٹھوں کو دیئے جانے والے 16 فیصد کوٹے کے لیے حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کردہ درخواستوں کے ایک بنچ کی سماعت شروع کی ہے۔ مراٹھا طبقہ ریاست کی جملہ آبادی کا ایک تہائی حصہ ہے۔ حکومت نے تحفظات فراہم کرنے کے لیے سماجی، تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات کے لیے علیحدہ کوٹہ مقرر کیا ہے۔ اس سلسلہ میں جو قانون سازی کی گئی ہے اس سے کوٹہ متاثر نہیں ہوگا۔ دستور کے آرٹیکل 342(A) میں ترمیم کی گئی ہے۔ دستور کے 102 ویں ترمیم کے مطابق تحفظات صرف اس صرف اس صورت میں ایک خاص طبقے کو دیئے جاسکتے ہیں جب اس فہرست کو صدر جمہوریہ کی جانب سے ترتیب دی گئی ہو۔ ریاستی پسماندہ طبقات کمیشن نے جو رپورٹ داخل کی ہے وہ قابل لحاظ طور پر تیار کردہ ڈیٹا کے عین مطابق ہے۔