بی جے پی ۔ شیوسینا اتحاد کی حکومت کے امکانات متاثر کرنے کا الزام
ممبئی 4 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا میں تشکیل حکومت پر ابھی تعطل برقرار ہے۔ اسی دوران ایک مراٹھی روزنامہ نے شیوسینا قائد سنجے راوت کو ’’بیتال‘‘ سے تعبیر کیا جو اپنے جادوئی اثر سے راجہ وکرما دتیہ کو چیالنج کرتا ہے۔ آر ایس ایس کا حامی مراٹھی روزنامہ ’’ترون بھارت‘‘ کا کہنا ہے کہ سنجے راوت مہاراشٹرا میں بی جے پی ۔ شیوسینا اتحاد کے برسر اقتدار آنے کے موقع کو متاثر کررہے ہیں۔ ناگپور سے شائع ہونے والے روزنامہ ترون بھارت کی بی جے پی کو بھی سیاسی حمایت حاصل ہے اور وہ سنگھ پریوار سے بھی قریب بتایا گیا ہے۔ روزنامہ نے سنجے راوت کو ’’جوکر‘‘ کہا۔ اس کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر فرنویس کے موقف کو بی جے پی میں بیگانہ بتانے سنجے راوت کی کوشش خالص مذاق ہیں۔ سنجے راوت شیوسینا کے رکن راجیہ سبھا اور پارٹی کے اخبار ’’سامنا‘‘ کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر ہیں جو اقتدار میں مساوی حصہ داری اور مہاراشٹرا کی تشکیل پانے والی حکومت میں چیف منسٹر کے عہدہ کے لئے پارٹی کے مطالبہ کو پیش کرنے میں آگے آگے ہیں۔ سنجے راوت نے کئی موقعوں پر ملک کی معاشی سست روی پر فلم شعلے کے مکالمے ’’اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی‘‘ کے ذریعہ بی جے پی سے استفسار کیا اور تنقید کا نشانہ بنایا۔ مراٹھی روزنامہ نے پیر کے اپنے اداریہ کا عنوان ’’ادھو اور بیتال‘‘ رکھا ہے۔ لفظ ’’بیتال‘‘ مراٹھی میں بھی استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ایسا شخص جو خراب گفتگو کرتا ہے۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی واحد بڑی جماعت بن کر اُبھری ہے اور وہ تشکیل حکومت کا دعویٰ پیش کرسکتی ہے۔ لیکن بی جے پی کی جانب سے تشکیل حکومت کا دعویٰ پیش کرنے پر بھی سوال اُٹھائے جارہے ہیں۔ اس مرتبہ بی جے پی ۔ شیوسینا اتحاد نے انتخابات میں حصہ لیا اور بی جے پی نے 105 جبکہ شیوسینا نے 56 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔
