مرحوم یحییٰ السنوار کا پیغام اہل خانہ کوبعد از مرگ پہنچا:ذرائع

   

دبئی: گذشتہ ماہ غزہ پٹی رفح کے محلے تل السلطان میں اسرائیلی فوجی آپریشن میں شہادت کے دو دن بعد حماس کے سربراہ یحییٰ السنوار کے قتل سے کچھ عرصہ قبل کی نئی تفصیلات سامنے آئی تھیں۔حماس کے ذرائع نے انکشاف کیا کہ السنوار نے اہل خانہ کو اپنے بھتیجے ابراہیم محمد السنوار کے قتل کی تفصیلات پر ایک پیغام بھیجا اس عرصے میں ان کے ساتھ تھے۔ ان کی تدفین کی جگہ کے بارے میں بھی خاندان کو بتایا گیا۔الشرق الاوسط کی رپورٹ کے مطابق السنوار کا یہ پیغام خود ان کی ہلاکت کے دو دن بعد پہنچا۔ذرائع نے واضح کیا کہ جس شخص نے پوری جنگ کے دوران حماس رہنما کا ساتھ دیا اور سائے کی طرح ان کے ساتھ رہے وہ ابراہیم محمد السنوار تھے۔ یہ السنوار کے بھتیجے تھے اور بھائی محمد السنوار کے بیٹے تھے۔ وہ القسام بریگیڈز کے ایک اہم رہنما تھے۔ذرائع نے بتایا کہ ابراہیم ایک اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوئے ۔ انہیںاس وقت نشانہ بنایا تھا جب وہ اسرائیلی افواج کی نقل و حرکت کا پتہ لگانے رفح میں سرنگ سے باہر آئے تھے ۔ وہ اس وقت اپنے چچا یحییٰ السنوار کے ساتھ تھے ۔اس کے علاوہ اس نے تصدیق کی کہ السنوار نے اپنے بھائی کے خاندان کو ایک خط بھیجا جس میں ابراہیم کے قتل کی وضاحت کی گئی تھی، اور زیر زمین سرنگ میں تدفین کی جگہ کا انکشاف کیا گیا تھا۔ انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ اس نے لاش خود دفن کی اور نماز جنازہ ادا کی ہے۔لیکن سنوار کی موت کے دو دن بعد تک خاندان کو یہ خط موصول ہوا۔ اس کا مطلب ہے کہ اسے پہنچانے میں دو ماہ سے زیادہ کا وقت لگا، کیونکہ السنوار اسرائیلی بمباری میں سکیورٹی حالات کی مشکلات اور پیچیدگیوں سے مسلسل ٹھکانے بدل رہے تھے۔ذرائع نے انکشاف کیا کہ یحییٰ السنوار کئی مہینوں تک رفح میں رہے۔ اس کے کئی علاقوں میں گھومے۔گذشتہ مئی کے آخر سے مغربی علاقوں میں موجود رہے۔ وہ زیر زمین اور زمین کے اوپر والے علاقوں میں بھی چلتے رہے۔17 اکتوبر کو اسرائیلی فوج نے السنوار کو ہلاک کرنے کی ایک ویڈیو جاری کی تھی ۔