وزارت داخلہ کی جانب سے این پی آر کے عمل کے طور طریقوں کا جائزہ ، معلومات کی عدم فراہمی پر 1000روپئے جرمانہ
نئی دہلی۔16جنوری ( سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزارت داخلہ نے کل بروز جمعہ ایک اجلاس طلب کیا ہے جس میں 2020ء مردم شماری اور قومی آبادی رجسٹرڈ ( این پی آر ) کے طور طریقوں پر غور و خوص کیا جاسکے ۔ مملکتی وزیر داخلہ نتیانند نے اس اجلاس کی صدارت کریں گے ۔ اجلاس میں مرکزی معتمد داخلہ اجئے بھلا اور چیف سکریٹریز کے علاوہ تمام ریاستوں کے محکمہ مردم شماری کے ڈائرکٹرس شرکت کریں گے ۔ اجلاس میں مردم شماری اور این پی آر کی امکنہ شماری کے مرحلہ کے طور طریقوں کا جائزہ لیا جائے گا ۔ مردم شماری اور این پی آر کا عمل یکم اپریل سے شروع ہوکر 30ستمبر کو ختم ہوگا ۔ چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے پہلے ہی اعلان کردیا ہے کہ اس اجلاس میں ان کی ریاست سے نمائندگی نہیں کی جائے گی ۔ مغربی بنگال کے بشمول چند ریاستی حکومتوں نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ این پی آر کے عمل میں حصہ نہیں لیں گی کیونکہ اب یہ ملک گیر سطح پر قومی رجسٹرڈ آف سیٹیزنس کا چرچہ ہوگا ۔ عہدیداروں نے کہا کہ این پی آر کے مقاصد یہ ہے کہ اس کے ذریعہ ایک جامعہ شناختی ڈیٹا تیار کیا جائے ، ملک میں رہنے والے ہر ایک شہری کا ریکارڈ اکھٹا کیا جائے گا ۔ اس ڈیٹا میں ڈیموگرافک کے ساتھ ساتھ بائیومیٹرک کی تفصیلات ہوں گی ۔ شہریت ترمیمی قانون سی اے اے کے تنازعہ پر پیدا شدہ شوروغل کے درمیا ن ہاؤز لسٹنگ اور این پی آر کا عمل شروع کرنے کا اعلامیہ جاری کیا جائے گا ۔ وزارت داخلہ کے عہدیداروں نے کہا کہ زیادہ تر ریاستوں نے این پی آر سے متعلق دفعات کی نشاندہی کی ہے جو ملک کے عام شہریوں کا رجسٹر رکھا جائے گا ۔ اس کو مقامی / دیہات / سب ٹاؤن / کی جانب سے تیار کیا جائے گا ۔ سب ڈسٹرکٹ ، ڈسٹرکٹ ، اسٹیٹ دونوں سطحوں پر سیٹیزن شپ ایکٹ 1955ء کے دفعات کے تحت یہ عمل پورا کرلیا جائے گا ۔ شہریوں کا سیٹیزن شپ رجسٹریشن کرنے کے بعد انہیں قومی شناختی کارڈس جاری کئے جائیں گے جو رولس 2003کے مطابق ہوں گے۔ اس کے تحت مروج قواعد کے تحت جو لوگ اپنی معلومات فراہم نہیں کریں گے یا این پی آر میں نام درج کروانے سے گریز کریں گے تو ان پر 1000روپئے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا ۔ این پی آر کا ڈیٹا 2010 میں اکھٹا اور ڈیٹا کے ساتھ 2011 مردم شماری کے مرحلہ سے منسلک ہوگا ۔ 2015 میں گھر گھر کروائے گئے سروے کے اس ڈیٹا کو مزید بہتر بنایا جائے گا ۔ 2015ء میں رجسٹر کو اب ڈیٹنگ کیا گیا تھا ۔ حکومت اس تعلق سے شہریوں سے آدھار اور موبائیل نمبر بھی تفصیلات حاصل کرنی تھی ۔ اس مرتبہ شہریوں کے ڈرائیونگ لائسنس ، ووٹر آئی ڈی کارڈ سے متعلق معلومات بھی درج کروایا جائے گا ۔ عہدیداروں نے کہا کہ اس این پی آر کے دوران کارڈ کی تفصیلات حاصل نہیں کی جائیں گی ۔ این پی آر کے مقصد کے تحت غیر مہم شہریوں کو اپنے مقامی علاقہ میں کم از کم 6ماہ کی رہائش لازمی ہے ۔ اس قانون کے تحت ہندوستان کے ہر شہری کو اپنا نام درج رجسٹر کرانا ہے اور اس کو قومی شناختی کارڈ دیا جائے گا ۔