مردم شماری اور این پی آر پہلے مرحلہ کے ملتوی ہونے کا امکان

   

ایک یا دو دنوں میں رسمی احکامات متوقع ۔ کورونا وائرس خطرہ تک التواء پر غور

نئی دہلی 22 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ملک میں مردم شماری اور نیشنل پاپلیشن رجسٹر (این پی آر) کے پہلا مرحلہ کے کورونا وائرس کی وباء کے باعث غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہونے کا امکان ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اس ضمن میں احکامات ایک یا دو دنوں میں جاری کردیئے جائیں گے۔ سرکاری سطح پر اس عمل کو لیکر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ کورونا وائرس کا خطرہ ختم ہونے تک اس کو ملتوی کیا جاسکتا ہے۔ وزارت داخلی اُمور کے عہدیدار نے یہ بات بتائی۔ مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے ملک میں کورونا وائرس کی وباء کے پیش نظر مردم شماری 2021 ء اور نیشنل پاپلیشن رجسٹر (این پی آر) پر عمل آوری کے طریقوں کا جائزہ لیا جارہا ہے کیوں کہ ان کاموں کے لئے شمار کنندگان اور عملہ کی کمی کا اندیشہ ہے۔ مردم شماری اور این پی آر کے پہلے مرحلہ کا یکم اپریل تا ختم ستمبر انعقاد عمل میں آئے گا۔ کئی ریاستوں میں یکم اپریل سے اس پر عمل آوری کے آغاز کی توقع کی جارہی ہے۔ وزارت داخلی اُمور کے عہدیداروں کے مطابق اگر مرکزی حکومت کی جانب سے عائد کردہ 31 مارچ کی پابندی میں توسیع کی جاتی ہے تو یکم اپریل سے اس پر عمل آوری کرنے والی ریاستوں کی تاریخ میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ شمار کنندوں کی کمی کی صورت میں عمل آوری متاثر ہوسکتی ہے جس کے باعث ڈیٹا کو ترتیب دینے میں تاخیر کا امکان ہے۔ ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ خود کی گنتی کے بشمول تمام متبادلات پر غور کیا جارہا ہے۔ رجسٹر آف جنرل آف انڈیا کی جانب سے سیلف اینومریشن خود کی گنتی کا منصوبہ مردم شماری کے دوسرے مرحلہ کے لئے تیار کیا گیا ہے جس کا آغاز فروری 2021 ء سے ہوگا۔ موبائیل نمبر کا استعمال کرتے ہوئے لوگ او ٹی پی حاصل کرسکتے ہیں اور اس کے بعد لاگ آن کرکے اپنے طور پر اپنی اور ارکان خاندان کی تفصیلات مردم شماری کے فارم پر لکھ سکتے ہیں۔ فارم کی آن لائن خانہ پُری کے بعد ریفرنس نمبر حاصل ہوگا اور بعد میں شمار کنندوں کو وہ نمبر مہیا کیا جاسکتا ہے۔ کورونا وائرس کی وباء کے پیش نظر اوڈیشہ نے ملک بھر میں مردم شماری اور این پی آر سے متعلق تمام سرگرمیوں کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مغربی بنگال، چھتیس گڑھ، پنجاب، کیرالا اور دیگر ریاستوں کے برخلاف اوڈیشہ نے مردم شماری اور این پی آر کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ دیگر ریاستوں نے این پی آر کو اپ ڈیٹ کرنے کی مخالفت کی ہے جو مردم شماری کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ ان ریاستوں کو والدین کی تاریخ پیدائش اور مقام سے متعلق متنازعہ سوالات پر اعتراض ہے۔ وزارت داخلی اُمور نے یہ وضاحت کی ہے کہ این پی آر کے لئے دی جانے والی معلومات رضاکارانہ ہے۔ پہلے مرحلہ میں شمار کنندگان مکانات کی فہرست اور مردم شماری کی مشق کے دوران ہر ایک گھر سے 31 سوالات کے جوابات حاصل کرسکتے ہیں۔