سوماجی گوڑہ پریس کلب میں آج اہم اجلاس ، مستقبل کی حکمت عملی طئے کی جائے گی
حیدرآباد ۔ 3 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : کانگریس کے سینئیر قائد سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے ڈیجیٹل مردم شماری پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ عمل موجودہ انداز میں کیا گیا تو عام لوگوں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ انہوں نے استفسار کیا کہ مردم شماری میں گھروں کی ساخت ، سلاب کے استعمال اور دیگر غیر ضروری تفصیلات کیوں پوچھی جارہی ہیں ۔ آج اپنی قیام گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وی ہنمنت راؤ نے الزام لگایا کہ حکومت صرف ایس سی ، ایس ٹی طبقات کی تفصیلات جمع کررہی ہے ۔ جب کہ او بی سی اور دیگر طبقات کو نظر انداز کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی سی طبقہ بھی خط غربت سے نیچے زندگی گذار رہا ہے ۔ اس لیے ان کی مکمل سماجی و معاشی تفصیلات بھی مردم شماری میں شامل کی جانی چاہئے ۔ ذات پات کی مردم شماری پر سوال اٹھاتے ہوئے ہنمنت راؤ نے کہا کہ اگر یہ عمل کیا جارہا ہے تو اس میں تمام طبقات ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتوں کے بشمول دیگر طبقات کی مکمل تفصیلات شامل ہونی چاہئے ۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کا بی سی طبقہ سے تعلق ہونے کے باوجود انہوں نے بی سی طبقات کی ترقی اور فلاح و بہبود پر کوئی توجہ نہیں دی ہے ۔ صرف اعلیٰ طبقات کو اہمیت دی ہے ۔ بی جے پی ہندو ووٹوں پر انحصار کرتی ہے لیکن او بی سی طبقات کو مناسب نمائندگی نہیں دی جارہی ہے ۔ وی ہنمنت راؤ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت کے فیصلوں پر نریندر مودی کا مکمل کنٹرول نہیں بلکہ موہن بھگوت کے اثر و رسوخ میں فیصلے ہورہے ہیں ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ بی سی کمیونٹی کے قائدین اور دانشوروں کے ساتھ مشاورت کے بعد ہفتہ کو دوپہر 2 بجے سے سوماجی گوڑہ پریس کلب میں ایک تحریک کا اعلان کریں گے ۔ اگر اب آواز نہ اٹھائی گئی تو آنے والی نسلوں کے ساتھ نا انصافی ہوگی ۔۔ 2