مردم شماری 2027 کا این پی آر سے کوئی تعلق نہیں: رجسٹرار جنرل

   

ہاؤسنگ مردم شماری اپریل سے ستمبر 2026 کے درمیان، دوسرے مرحلے میں آبادی کا اندراج فروری 2027 سے آغاز

نئی دہلی: 31 مارچ (ایجنسیز) رجسٹرار جنرل و مردم شماری کمشنر مرتنجے کمار نارائن نے واضح کیا ہے کہ آئندہ مردم شماری کے دوران نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) کو اپڈیٹ کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی مردم شماری کا اس عمل سے کوئی تعلق ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ آزادی کے بعد آٹھویں مردم شماری دو مراحل میں مکمل کی جائے گی۔پہلا مرحلہ یعنی ہاؤس لسٹنگ اور ہاؤسنگ مردم شماری اپریل سے ستمبر 2026 کے درمیان ہوگی، جبکہ دوسرا مرحلہ یعنی آبادی کا اندراج فروری 2027 میں کیا جائے گا۔ البتہ جموں و کشمیر، لداخ کے برفانی علاقوں، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں یہ عمل ستمبر 2026 میں مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس بار مردم شماری مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوگی اور تمام ڈیٹا موبائل ایپ کے ذریعے جمع کیا جائے گا۔ عوام کو خود اندراج کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی، جس کے تحت لوگ 16 زبانوں میں آن لائن اپنی معلومات درج کر سکیں گے، تاہم حتمی تصدیق مردم شماری عملہ کرے گا۔مردم شماری کے پہلے مرحلے میں گھروں کی حالت، سہولیات اور اثاثوں سے متعلق معلومات جمع کی جائیں گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں آبادی، سماجی، ثقافتی، معاشی، نقل مکانی اور شرحِ پیدائش جیسے اہم پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے گا۔ اس دوران ذات اور مذہب سے متعلق سوالات بھی شامل ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بڑے عمل کے لیے وسیع پیمانے پر تربیتی انتظامات کیے گئے ہیں، جس کے تحت لاکھوں شمار کنندگان اور سپروائزرز کو تربیت دی جا رہی ہے تاکہ درست اور معیاری ڈیٹا اکٹھا کیا جا سکے۔مغربی بنگال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت سے رابطہ جاری ہے اور امید ہے کہ ستمبر سے پہلے ضروری نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔قبل ازیں حکومت نے مردم شماری کے پہلے مرحلے کے لیے 33 عمومی سوالات جاری کئے تھے۔ حکومت ہند نے مردم شماری 2027 کو مکمل طور پر ڈیجیٹل انداز میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے سینسس منیجمنٹ اینڈ مانیٹرنگ سسٹم (سی ایم ایم ایس) کے نام سے ایک مرکزی آن لائن پلیٹ فارم تیار کیا گیا ہے۔ یہ نظام دنیا کی سب سے بڑی انتظامی مشقوں میں سے ایک ہندوستانی مردم شماری کی ریئل ٹائم نگرانی اور مؤثر تکمیل میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔