مرض کینسر ابتدائی تشخیص کی صورت میں قابل علاج

   

تین دہائیوں میں 79 فیصد مریضوں میں اضافہ ، ڈبلیو ایچ او کا انکشاف
حیدرآباد ۔6۔ ستمبر ۔(سیاست نیوز) تین دہائیوں میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں 79 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور محققین کے مطابق کینسر کے مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کی بنیادی وجہ غذاء کے استعمال میں بے قاعدگی‘ ورزش نہ کرنا ‘ موٹاپا اور دیگر وجوہات ہوسکتے ہیں۔ 50 سال سے کم عمر کے شہریوں میں کینسر کے امراض میں ہونے والے اضافہ کے سلسلہ میں کی گئی تحقیق میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 30 سال کے دوران 50 سال سے کم عمر کے کینسر مریضوں کی تعداد میں 79 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔عالمی سطح پر 1990 میں کینسر کے متاثرین کی تعداد 18لاکھ ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ 2019 میں اس تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ 32 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ بی ایم جے آنکالوجی کی جانب سے کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ان 30برسوں میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ ساتھ کینسر کے سبب ہونے والی اموات میں بھی 278 فیصد تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔تمباکو کے استعمال کے علاوہ شراب نوشی اور غذاء کے استعمال میں بے قاعدگیوں کے نتیجہ میں مختلف کینسر کی توثیق ہونے لگی ہے جو کہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق کینسر دنیا میں موت کی دوسری بڑی وجہ ریکارڈ کی جا رہی ہے جو کہ تشویشناک ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق 6 میں ایک موت مختلف قسم کے کینسر سے واقع ہونے والی موت ریکارڈ کی جا رہی ہے جن میں شکم ‘ پھیپڑے ‘ جگر کے علاوہ دیگر کینسر کے مریضوں کی اموات شامل ہیں۔مردوں اور عورتوں میں پائے جانے والے کینسر کے عوارض مختلف ہونے کی بھی اس تحقیق میں تصدیق کی گئی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ان دنوں جو لوگ کینسر کا شکار ہورہے ہیں ان وہ ابتدائی طور پر تشخیص کی صورت میں قابل علاج ہیں اور ان کا علاج بھی ہورہا ہے لیکن تاخیر کی صورت میں علاج میں ہونے والی دشواریوں کے نتیجہ میں سرطان پھیلنے کی وجہ سے اموات بھی واقع ہورہی ہیں۔ماہرین کے مطابق ہلکی ورزش ‘ غذاء کے استعمال میں باقاعدگی ‘ عادات و اطوار میں تبدیلی کے علاوہ شراب نوشی ‘ تمباکو نوشی سے چھٹکارے اور موٹاپے میں کمی کے ذریعہ کینسر کا شکار ہونے سے محفوظ رہا جاسکتا ہے ۔کینسر کے مریضوں کی تعداد میں ہورہے اضافہ کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ سال 2030 تک ان مریضوں کی تعداد میں مزید اضافہ کے علاوہ اموات میں بھی اضافہ کا خدشہ ہے ۔