مرکزی بجٹ میں اقلیتی بہبود کے فنڈس میں کمی افسوسناک: محمد علی شبیر

   


تعلیمی شعبہ نظر انداز، مودی حکومت کو اقلیتی بہبود سے دلچسپی نہیں
حیدرآباد: سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے مرکزی بجٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے فنڈس میں کمی پر بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوںنے کہا کہ وزیر فینانس نرملا سیتا رامن نے پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ پیش کیا جو اقلیتوں کیلئے مایوس کن رہا ۔ اقلیتی امور کیلئے 2020-21 میں 5029 کروڑ مختص کئے گئے تھے لیکن جاریہ سال بجٹ میں کمی کرتے ہوئے 4810.77 کروڑ مختص کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ 2020-21 کے نظرثانی شدہ بجٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے 4005 کروڑ کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ وزیراعظم نریندر مودی سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ لگاتے ہیں جو اقلیتوں کے معاملہ میں کھوکھلا ثابت ہوا ہے ۔ مرکزی حکومت نے اقلیتوں کی ترقی کو بری طرح نظر انداز کردیا اور اقلیتوں کے ساتھ صرف زبانی ہمدردی کا معاملہ ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ 34 لاکھ کروڑ کے بجٹ میں اقلیتوں کیلئے 4810.77 کروڑ مختص کرنا شرمناک ہے کیونکہ اقلیتیں ملک کی آبادی کا 15 فیصد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت اقلیتوں کو اعلیٰ تعلیم سے محروم کرنے کی سازش کر رہی ہے ، اس کا ثبوت تعلیم سے متعلق اسکیمات کے بجٹ میں کمی ہے۔ پوسٹ میٹرک اسکالرشپ برائے اقلیت کے بجٹ کو 2020-21 میں 535 کروڑ سے گھٹاکر جاریہ سال 468 کروڑ کیا گیا ۔ میرٹ کم مینس اسکالرشپ کیلئے بجٹ کو 400 کروڑ سے گھٹاکر 325 کروڑ کردیا گیا ۔ انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ کیلئے ٹکنیکل اور پروفیشنلس کورسس سے متعلق اسکالرشپ میں اضافہ کے بجائے 75 کروڑ کی کمی کردی گئی۔ مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ برائے اقلیتی طلبہ کے بجٹ کو گزشتہ سال کے 175 کروڑ کے مقابلہ گھٹاکر جاریہ سال محض 99 کروڑ رکھا گیا ہے۔ یونین پبلک سرویس کمیشن ، اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن اور دیگر اداروں میں مسابقتی امتحانات کی تیار کیلئے بجٹ کو گزشتہ سال 10 کروڑ سے گھٹاکر 8 کروڑ کیا گیا ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ تعلیمی ترقی سے متعلق بجٹ کو مجموعی طور پر 2530 کروڑ سے گھٹاکر 2381 کروڑ کردیا گیا ۔ اسکل ڈیولپمنٹ کے بجٹ میں 602 کروڑ سے 573 کروڑ کی کمی کی گئی۔ نئی منزل اسکیم کے بجٹ کو گزشتہ سال 120 کروڑ سے گھٹاکر 87 کروڑ کیا گیا ہے۔ استاد اسکیم کا بجٹ 47 کروڑ رکھا گیا ہے جبکہ گزشتہ سال یہ 60 کروڑ تھا۔ پردھان منتری جن وکاس کاریکرم کے بجٹ کو 1600 کروڑ سے گھٹاکر 1390 کروڑ کیا گیا ہے ۔ مرکزی اسکیمات کے مجموعی بجٹ کو 3210 کروڑ سے گھٹاکر 3016 کروڑ کیا گیا ۔ محمد علی شبیر نے بی جے پی حکومت پر بجٹ میں تلنگانہ کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کیلئے ایک بھی نئے پراجکٹ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت اور تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے بی جے پی ارکان پارلیمنٹ مرکز پر اثرانداز ہونے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ کانگریس پارٹی مودی حکومت کی جانب سے تلنگانہ کے ساتھ کی گئی ناانصافی کو بے نقاب کرے گی۔ کے سی آر حکومت مرکز سے ایک بھی پراجکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے جبکہ دونوں تلگو ریاستوں میں سابق کانگریس حکومت نے کئی پراجکٹس کو منظوری دی ۔