مرکزی بجٹ میں اہم شعبہ جات نظرانداز : ونود کمار

   

Ferty9 Clinic

مشن بھگیرتا کیلئے ایک پیسہ بھی جاری نہیں ہوا، ریلوے بجٹ علحدہ پیش کرنے کا مطالبہ

حیدرآباد۔/5 جولائی، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے سابق رکن پارلیمنٹ بی ونود کمار نے مرکزی بجٹ میں اہم شعبہ جات کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا ۔ مرکزی بجٹ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ونود کمار نے کہا کہ تلنگانہ حکومت ہر گھر کو پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے مشن بھگیرتا اسکیم پر کامیابی سے عمل کررہی ہے۔ نیتی آیوگ نے اسکیم کی نشاندہی کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو بطور گرانٹ 19 ہزار کروڑ مختص کرنے کی تجویز پیش کی لیکن آج تک مرکز نے تلنگانہ کو ایک پیسہ بھی جاری نہیں کیا ہے۔ ونود کمار نے کہا کہ مودی حکومت کے ’’ ہر گھر جل ‘‘ پروگرام کیلئے کوئی فنڈز مختص نہیں کئے گئے جس کا مقصد دیہی علاقوں میں 2024 تک پائپ لائن کے ذریعہ پانی سربراہ کرنا ہے۔ وزیر فینانس نے وضاحت کی کہ حکومت مختلف اسکیمات کے تحت موجود فنڈز کا استعمال کررہی ہے اور سی اے این ٹی اے کے تحت موجود فنڈ کے استعمال کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ سپریم کورٹ کے واضح رہنمایانہ خطوط ہیں کہ سی اے ایم پی اے فنڈز دیگر اغراض کیلئے استعمال نہ کیا جائے لیکن حیرت ہے کہ مرکزی حکومت ’’ ہر گھر جل ‘‘ اسکیم کیلئے یہ فنڈ استعمال کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے تلنگانہ کی مشن بھگیرتا کی نقل کرتے ہوئے ’ ہر گھر جل ‘ اسکیم کا آغاز کیا ہے لیکن تلنگانہ کو فنڈز جاری نہیں کئے گئے۔ ونود کمار نے کہا کہ جب حکومت ملک میں 10.74 کروڑ خاندانوں کو فی کس 5 لاکھ فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے لیکن بجٹ میں مختص کردہ 6400 کروڑ آیوشمان بھارت اسکیم کیلئے ناکافی ہیں۔ بالاکوٹ فضائی حملہ کے بعد ہندوستان کی تینوں افواج بجٹ میں اضافہ کی توقع کررہی تھیں لیکن مودی حکومت نے افواج کو مایوس کردیا۔ حکومت نے دفاعی بجٹ کو عبوری بجٹ میں فراہم کردہ رقم 3.18 لاکھ کروڑ برقرار رکھا ہے۔ تلنگانہ حکومت نے 3000 کلو میٹر قومی شاہراہوں کی تعمیر کیلئے مرکز کو تفصیلی رپورٹ پیش کردی ہے لیکن افسوس کہ فینانس منسٹر نے اس تجویز کو نظرانداز کردیا جبکہ وزارت روڈ ٹرانسپورٹ نے کیٹگری II کے تحت ان تجاویز کو ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ ونود کمار نے کہا کہ تین سال قبل مودی حکومت نے ریلوے بجٹ کو عام بجٹ میں ضم کردیا۔ جس وقت یہ علحدہ بجٹ تھا عوام میں اعتماد بحال ہورہا تھا کہ متعلقہ وزیر خود ریلوے لائنس پراجکٹس اور نئے ٹریکس کے بارے میں بات کررہے ہیں لیکن آج وزیر فینانس کی تقریر میں نئے ریلوے لائنس اور پراجکٹس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ ونود کمار نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ وہ عام آدمی میں اعتماد کو بحال کرنے کیلئے ریلوے بجٹ علحدہ طور پر پیش کریں۔ تلنگانہ حکومت نے مختلف مواقع پر کالیشورم پراجکٹ کو قومی پراجکٹ کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن افسوس کہ مودی حکومت نے اس پر غور نہیں کیا۔ ونود کمار نے سروا سکھشا ابھیان کیلئے بجٹ میں کمی کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ حکومت کا یہ فیصلہ تعلیم کے بارے میں حکومت کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔