مرکزی بجٹ میں تعلیمی شعبہ مکمل نظرانداز

   

سنگاریڈی میں سرکاری کالج ہاسٹل کے روبرو ایس ایف آئی کا احتجاجی مظاہرہ
سنگا ریڈی۔ 3 فروری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز )سنگاریڈی میں اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کی جانب سے مرکزی حکومت کے 2026-27 کے بجٹ میں تعلیمی شعبے کو نظرانداز کرنے کے خلاف سرکاری ڈگری کالج ہاسٹل کے سامنے احتجاجی پروگرام منعقد کیا گیا۔اس موقع پر ایس ایف آئی ضلع صدر ایررولہ مہیش اور ضلع سیکریٹری راجیش نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کردہ 2026-27 کے بجٹ میں تعلیم کے لیے مختص کی گئی رقم انتہائی مایوس کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مستقبل کی بنیاد تعلیم پر ہوتی ہے، لیکن مرکزی حکومت نے تعلیمی شعبے کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا ہے۔ بجٹ میں پورے تعلیمی شعبے کے لیے صرف 1,39,289 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو کل مرکزی بجٹ کا محض 2.6 فیصد ہے۔ یہ جی ڈی پی کے 6 فیصد تعلیم پر خرچ کرنے کے ہدف سے بہت کم ہے اسکولی تعلیم فنڈز میں کٹوتی اور اسکولوں کی بندش انہوں نے بتایا کہ اسکولی تعلیم کے لیے صرف 83,562 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی اور بنیادی سہولیات کے فقدان کے باوجود فنڈز میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب ملک بھر میں ہزاروں سرکاری اسکول بند کیے جا رہے ہیں، جس سے دیہی علاقوں اور غریب خاندانوں کے بچوں کو قریبی تعلیمی اداروں سے محروم کیا جا رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مطابق فنڈز میں اضافہ نہ ہونے سے حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ فیسوں میں اضافہ اور اسکالرشپس میں کمی کے باعث غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ اعلیٰ تعلیم سے دور ہو رہے ہیں۔ اس احتجاجی پروگرام میں ایس ایف آئی نائب صدر ستیش، ضلع اسسٹنٹ سیکریٹری ارجن، اور ایس ایف آئی قائدین درگیش، نوین گوڑ، مدھو سمیت دیگر کارکنان نے شرکت کی۔