مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی، ٹی آر ایس ارکان اسمبلی کا الزام

   

Ferty9 Clinic

تنظیم جدید قانون میں کئے گئے وعدے نظرانداز، ارکان پارلیمنٹ ناگیشور رائو اور پربھاکر ریڈی کا ردعمل

حیدرآباد۔ 5 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ کی برسر اقتدار ٹی آر ایس نے مرکزی بجٹ کو مایوس کن قرار دیا ہے۔ لوک سبھا میں پارٹی کے فلور لیڈر نامہ ناگیشور رائو نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارامن کی جانب سے پیش کردہ بجٹ سے امید کی جارہی تھی کہ ہر شعبہ کو راحت ملے گی لیکن یہ بجٹ عوام کی توقعات کے برخلاف رہا۔ مرکزی بجٹ سے عوام کو مایوسی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے مشن بھگیرتا کی نقل کرتے ہوئے دیہی علاقوں میں پانی کی سربراہی کی مہم کا آغاز کیا ہے۔ نامہ ناگیشور رائو نے کہا کہ مرکزی حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ مشن بھگیرتا کی تکمیل کے لیے تلنگانہ حکومت سے تعاون کرتی۔ مرکز نے اس اسکیم کے لیے فنڈس الاٹ نہیں کئے ہیں۔ ناگیشور رائو نے کہاکہ سونے کی قیمت میں اضافے سے عام آدمی پر مزید بوجھ پڑے گا۔ انہوں نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کو ہر شعبہ کے لیے نقصاندہ قرار دیا۔ پارٹی کے ایک اور رکن پارلیمنٹ پربھاکر ریڈی نے کہا کہ بجٹ میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی بجٹ کسی بھی ریاست اور عوام کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔ کے پربھاکر ریڈی نے کہا کہ ہر گھر کو پانی کی سربراہی کے لیے بجٹ میں رقم مختص کی گئی جس کا ٹی آر ایس خیرمقدم کرتی ہے لیکن تلنگانہ میں مشن بھگیرتا کے تحت اسی اسکیم پر عمل کیا جارہا ہے۔ مرکز نے اسکیم کا نام تبدیل کرتے ہوئے بجٹ میں شامل کرلیا۔ پربھاکر ریڈی نے کہا کہ آندھراپردیش کی تقسیم کے وقت تلنگانہ سے جو وعدے کیئے گئے تھے ان کا مرکزی بجٹ میں کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ مجموعی طور پر مرکزی بجٹ تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ عوام کے توقعات کے برخلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے مرکز سے مختلف پراجیکٹس کی منظوری کی خواہش کی تھی لیکن بجٹ میں اس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ مرکز نے گزشتہ پانچ برسوں میں تلنگانہ کو کوئی اضافی فنڈس جاری نہیں کئے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ بجٹ میں ناانصافیوں کے خلاف پارٹی کے دونوں ایوانوں میں آواز اٹھائیں گے۔