مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی : بھٹی وکرامارکا

   

وزیر اعظم سے بارہا نمائندگی بے فیض، اہم پراجکٹس کیلئے فنڈس کی عدم منظوری

حیدرآباد۔ یکم؍ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے مرکزی بجٹ میں ریاست کے ساتھ ناانصافی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کے لئے فنڈ سے متعلق بار بار نمائندگی پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے مرکزی بجٹ کو تلنگانہ کے لئے مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ وزیر فینانس نرملا سیتارامن نے 45.48 لاکھ کروڑ کا بجٹ پیش کیا لیکن تلنگانہ کے اہم شعبہ جات میں ایک بھی منظوری کا اعلان نہیں ہوا ہے۔ تلنگانہ حکومت کو امید تھی کہ اس قدر بھاری بجٹ میں ریاست کے ساتھ انصاف ہوگا اور اہم شعبہ جات کے لئے فنڈس فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے تلنگانہ کے مفادات کو یکسر نظرانداز کردیا ہے۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے اہم پراجکٹس کے لئے فنڈس کے سلسلہ میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزراء سے بارہا نمائندگی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ، میٹرو ریل اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے ترقیاتی منصوبے پر فنڈس مختص کئے جانے کی امید تھی لیکن حکومت کو مایوسی ہوئی ہے۔ مرکز نے 10 ہزار کروڑ سے بائیو فارما شکتی اسکیم کا اعلان کیا لیکن تلنگانہ کے نام پر غور نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین کی تیاری میں تلنگانہ کے رول کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ الیکٹرانک آلات کی تیاری کے شعبہ میں بھی تلنگانہ سے ناانصافی ہوئی ہے۔ کیمیکل پارکس، آرینج اکانامی، ریجنل میڈیکل ویلیو ہب اور دیگر پراجکٹس میں تلنگانہ کو نظرانداز کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے وکست بھارت نظریہ کو اختیار کرتے ہوئے 3 ٹریلین ڈالر معیشت کی ترقی کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ مرکز نے ریاست کے قرض کے بوجھ کو کم کرنے میں کوئی تعاون نہیں کیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ پارٹی وابستگی سے بالاتر ہوکر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر فینانس نرملا سیتارامن سے تلنگانہ کے امور پر نمائندگی کریں تاکہ بجٹ کی منظوری سے قبل ریاست کے ساتھ انصاف ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر شعبہ میں تلنگانہ سے بہتر کوئی اور ریاست نہیں ہے۔ 1

بی جے پی پر کارپوریٹ طبقہ کے مفادات کے تحفظ کا الزام
پڈوچیری میں کانگریس انتخابی مہم سے بھٹی وکرامارکا کا خطاب

حیدرآباد۔ یکم؍ فروری (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے پڈوچیری اسمبلی انتخابات کی مہم میں شرکت کرتے ہوئے پدیاترا اور عوام سے ملاقات پروگراموں میں حصہ لیا۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے پڈوچیری انتخابی مہم کے ضمن میں بھٹی وکرامارکا کو اہم ذمہ داری دی ہے۔ پڈوچیری پہنچنے پر صدر پردیش کانگریس اور رکن پارلیمنٹ ویدیالنگم اور سی ایل پی لیڈر سوامی ناتھن نے بھٹی وکرامارکا کا استقبال کیا۔ انتخابی مہم کے تحت عوام سے ملاقات پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست میں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان اصل مقابلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے ملک کی جدوجہد آزادی میں اہم رول ادا کیا اور ہندوستان کو 21 ویں صدی میں داخل کرنے کے لئے کئی انقلابی اقدامات کئے۔ دوسری طرف بی جے پی نے عوام کے بجائے کارپوریٹ اداروں کے مفادات کی تکمیل کو اولین ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے استحکام اور سیکولر سماج کی تشکیل کانگریس پارٹی کا کارنامہ ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اسمبلی چناؤ میں کانگریس کو بھاری اکثریت سے منتخب کریں تاکہ مرکزی زیر انتظام پڈوچیری کی ہمہ جہتی ترقی ممکن ہو۔ بھٹی وکرامارکا نے 23 اسمبلی حلقہ جات کا احاطہ کیا۔ انہوں نے پڈوچیری کو ڈرگ مافیا سے نجات دلانے کی عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی سرپرستی میں غیر قانونی سرگرمیاں انجام دی جارہی ہیں۔ راہول گاندھی نے بھارت جوڑو یاترا کے ذریعہ ملک میں فرقہ وارانہ ماحول کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ کانگریس برسر اقتدار آنے پر تلنگانہ طرز کی اسکیمات پر عمل کیا جائے گا۔ 1