عوامی بھلائی سے زیادہ اڈانی اور امبانی کی فکر ، انشورنس ورکرس سے سی پی آئی رکن پارلیمنٹ بنوئے وشوم کا خطاب
حیدرآباد۔10۔ جنوری (سیاست نیوز) سی پی آئی کے رکن پارلیمنٹ بنوئے وشوم نے کہا کہ انتخابات کے پیش نظر مرکزی بجٹ میں بعض رعایتوں اور اسکیمات کا اعلان کیا جاسکتا ہے تاکہ بی جے پی کے حق میں رائے عامہ ہموار کی جاسکے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی حکومت عوامی شعبہ کے اداروں کو کارپوریٹ گھرانوں کے حوالے کرتے ہوئے لاکھوں افراد کو بیروزگار کرنے کی سازش رکھتی ہے۔ بنوئے وشوم آج مخدوم بھون میں انشورنس ایمپلائیز اسوسی ایشن کے نمائندوں سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بائیں بازو کی جماعتیں مرکزی حکومت کی مخالف لیبر پالیسیوں کی مسلسل مخالفت کررہی ہے۔ عوامی شعبہ کے اداروں کو خانگیانے کے خلاف بائیں بازو کی جماعتوں قومی سطح پر جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت کو عوام کی بھلائی سے زیادہ اڈانی اور امبانی کو فائدہ پہنچانے میں دلچسپی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 23 اور 24 فروری کو مرکزی لیبر اور ورکرس تنظیموں کی جانب سے منعقد کئے جانے والے احتجاج کی ہر کسی کو تائید کرنی چاہئے ۔ سی پی آئی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ انشورنس اور بینک سیکٹر کے تحفظ کے لئے بائیں بازو کی جماعتیں مرکز پر دباؤ بنارہی ہیں۔ مرکزی حکومت بینکوں کو خانگیانے کے علاوہ انشورنس کے شعبہ میں خانگی اداروں کی سرمایہ کاری کی اجازت دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر احتجاج کے ذریعہ مرکز کو خانگیانے کے فیصلہ سے روکا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے ایجی ٹیشن کو مثال بناتے ہوئے عوامی شعبہ کے اداروں کے ملازمین کو میدان عمل میں آنا ہوگا۔ کسانوں نے ایک سال تک مسلسل احتجاج کے ذریعہ مرکزی حکومت کو سیاہ زرعی قوانین واپس لینے پر مجبور کردیا تھا۔ بنوئے وشوم نے بتایا کہ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج پر راجیہ سبھا کے 12 ارکان کو اجلاس کے اختتام تک معطل کردیا گیا جن میں وہ بھی شامل ہیں۔ اپوزیشن ارکان نے انشورنس اور بینکنگ سے متعلق بلز کی مخالفت کی تھی۔ آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس کے ریاستی جنرل سکریٹری وی ایس بوس، آل انڈیا ایمپلائیز فیڈریشن کے جنرل سکریٹری وی رگھوناتھ ، زونل جوائنٹ سکریٹری پی مہیش ، جوائنٹ فیڈریشن آف ٹریڈ یونین کے کنوینر سدھاکر راؤ اور دوسروں نے مخاطب کیا۔ ر