مرکزی بجٹ میں کسانوں کی بھلائی نظرانداز: کودنڈاریڈی

   

Ferty9 Clinic

زرعی شعبہ سے کئے گئے وعدوں کو نریندر مودی حکومت نے فراموش کردیا
حیدرآباد۔ 5 جولائی (سیاست نیوز) آل انڈیا کسان کانگریس کے نائب صدرنشین ایم کودنڈاریڈی نے کہا کہ مرکزی بجٹ میں کسانوں کی معاشی صورتحال بہتر بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اس طرح مرکزی بجٹ زرعی شعبہ کے لیے مایوس کن ثابت ہوا ہے۔ مرکز کو چاہئے تھا کہ وہ وعدے کے مطابق کسانوں کی آمدنی میں اضافے کا قدم اٹھاتی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کودنڈاریڈی نے کہا کہ فصل بیمہ کے سبب خانگی اداروں کو فائدہ ہورہا ہے جبکہ کسان اسکیم کے فوائد سے محروم ہیں۔ زرعی مزدوروں کے لیے ضمانت روزگار اسکیم پر عمل آوری کا مطالبہ کرتے ہوئے کودنڈاریڈی نے کہا کہ یو پی اے دور حکومت میں اس اسکیم سے لاکھوں زرعی مزدوروں کو فائدہ پہنچا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے زرعی آلات پر جی ایس ٹی میں کمی کا وعدہ کیا تھا لیکن بجٹ میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکز نے زرعی شعبہ کو راحت کے بجائے مزید مسائل میں مبتلا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے مخالف کسان رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ کودنڈا ریڈی نے کہا کہ کسان اپنی پیداوار کی امدادی قیمت میں اضافے کے منتظر تھے لیکن مرکز نے توقع کے مطابق اضافہ نہیں کیا ہے۔ کسانوں اور زرعی شعبہ کے تحفظ سے متعلق بجٹ میں ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا۔ کودنڈا ریڈی نے مطالبہ کیا کہ ضمانت روزگار اسکیم کو زرعی شعبہ سے مربوط کیا جائے تاکہ غیر سیزن میں زرعی لیبر کو روزگار حاصل ہوسکے۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ آنے والے دنوں میں زرعی شعبہ کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔