حیدرآباد ۔ بنگلور صنعتی راہداری واحد اعلان، 8 لوک سبھا نشستوں پر کامیابی کے باوجود عوام کو کوئی تحفہ نہیں ملا
حیدرآباد۔/23 جولائی، ( سیاست نیوز) مرکزی بجٹ نے تلنگانہ کو پھر ایک مرتبہ مایوس کردیا ہے۔ آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد سے گذشتہ دس برسوں میں نریندر مودی حکومت نے بجٹ میں تلنگانہ کے ساتھ مسلسل ناانصافی کا رویہ برقرار رکھا ہے۔ تلنگانہ حکومت نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر فینانس نرملا سیتا رامن کو آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون کے وعدوں کے علاوہ پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے خصوصی بجٹ کی درخواست کی تھی لیکن مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کیلئے کوئی اہم اعلان نہیں ہوا ہے۔ نرملا سیتا رامن نے تلنگانہ کیلئے حیدرآباد تا بنگلور صنعتی راہداری کا اعلان کیا لیکن اس راہداری سے تلنگانہ سے زیادہ آندھرا پردیش کے رائلسیما ریجن کو فائدہ ہوگا۔ نرملا سیتا رامن نے آندھرا پردیش میں اپنی حلیف تلگودیشم کو خوش کرنے کیلئے کئی اعلانات کئے ہیں۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر فینانس نرملا سیتا رامن سے ملاقات کرتے ہوئے مرکز میں زیر التواء 31 مسائل کی فہرست پیش کی تھی۔ ریاست کی تقسیم کے وقت تلنگانہ سے جو وعدے کئے گئے ان کی یاددہانی کرائی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو تلنگانہ میں 8 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی جو متحدہ آندھرا پردیش کی تاریخ میں شاید پہلا موقع ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں 8 اور لوک سبھا میں 8 نشستوں پر کامیابی کے باوجود مرکزی حکومت نے تلنگانہ کے رائے دہندوں کو کوئی تحفہ نہیں دیا ہے۔ تلنگانہ کے دو مرکزی وزراء کشن ریڈی اور بنڈی سنجے کمار نے مرکزی بجٹ میں تلنگانہ سے انصاف کا بھروسہ دیا تھا لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرکزی وزراء اور بی جے پی ارکان پارلیمنٹ تلنگانہ کیلئے خصوصی فنڈز کے معاملہ میں مرکزی حکومت پر اثرانداز ہونے میں ناکام رہے۔ بی جے پی ارکان پارلیمنٹ اپنے حلقہ جات میں رائے دہندوں کو کیا جواب دیں گے دیکھنا ہوگا۔1