مرکزی حج کمیٹی میں دھاندلیوں کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ

   

سی ای او کے فوری تقرر پر زور ، لوک سبھا میں اسد اویسی کی بحث
حیدرآباد۔6۔ اگسٹ۔(سیاست نیوز) حج کمیٹی آف انڈیا میں جاری دھاندلیوں پر بیرسٹراسدالدین اویسی نے آج پارلیمنٹ میں مسئلہ اٹھاتے ہوئے ان دھاندلیوں کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خانگی ٹو رآپریٹرس کو کوٹہ کی تخصیص میں لاکھوں روپئے وصول کئے جانے کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے آج پارلیمنٹ میں جاری مباحث کے دوران حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حج کمیٹی آف انڈیا کے مستقل چیف اگزیکٹیو آفیسر کے تقرر کے سلسلہ میں3 نومبر 2023کو ایک اعلامیہ جاری کیاگیا لیکن اس کے باوجود اب تک حج کمیٹی آف انڈیا کے مستقل سی ای او کا تقرر عمل میں نہیں لایا گیا جس کے نتیجہ میں ہندستان سے روانہ ہونے والے عازمین حج کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ وزارت خارجہ کے شعبہ حج میں 8 سال سے زیادہ عرصہ سے کئی عہدیدار خدمات انجام دے رہے ہیں قانون کے اعتبار سے ان کا تبادلہ کیا جانا چاہئے لیکن اس کے بجائے ممبئی سنٹرل حج کمیٹی میں خدمات انجام دینے والے 35ملازمین کو خدمات سے برطرف کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ مستقل سی ای او نہ ہونے کے نتیجہ میں عہدیداروں کی جانب سے سعودی عرب میں موجود بعض بدعنوان عہدیدارمنیٰ ‘ مزدلفہ اور عرفات میں غیر معیاری رہائش حاصل کرتے ہوئے حجاج اکرام کی تکالیف کا سبب بنے ہیں جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ انہو ںنے اسپیکر کے ذریعہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ حج کمیٹی آف انڈیا میں جاری بدعنوانیوں کی تحقیقات سی بی آئی کے ذریعہ کروائی جائیں تاکہ خانگی ٹور آپریٹرس کو جو بدعنوانیوں کا شکار بناتے ہوئے ان سے لاکھوں روپئے لوٹے جارہے ہیں اس پر قابو پایا جاسکے۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت خانگی ٹور آپریٹرس کے لائسنس کی تجدید اور انہیں کوٹہ کی تخصیص کے لئے رشوت سے پاک میکانزم تیار کرے تاکہ عازمین حج اور خانگی ٹور آپریٹر س کو ہونے والی پریشانیوں سے نجات حاصل ہوسکے ۔ انہوں نے حج بیت اللہ کے دوران ہندستانی عازمین کو ہونے والی مشکلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں موجود کمپنیوں کے ذریعہ غیر معیاری رہائش گاہیں حاصل کرنے کے مسئلہ پر بھی متوجہ کرواتے ہوئے ان مسائل کو بھی دور کرنے کے لئے فوری طور پر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔3