مرکزی حکومت سے بجٹ کی پیشکشی پر عوام کی نظر

   

عبوری یا مکمل بجٹ پر متعدد قیاس آرائیاں، پارلیمنٹ کے سینکڑوں ملازمین کو کورونا وائرس لاحق

حیدرآباد۔9جنوری(سیاست نیوز) مرکزی حکومت قومی عبوری بجٹ پیش کرے گی یا مکمل بجٹ پیش کیا جائے گا! بجٹ سیشن مرکزی حکومت کی جانب سے آن لائن منعقد کرنے کے امور کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے !پارلیمنٹ کے عملہ کو کورونا وائرس کی توثیق کے بعد جاریہ ماہ کے اواخر میں شروع ہونے والے بجٹ سیشن کے متعلق متعدد قیاس آرائیاں کی جانے لگی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے عبوری بجٹ کی پیشکشی کا بھی جائزہ لیا جانے لگا ہے کیونکہ 200 سے زائد پارلیمنٹ میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کو کورونا وائرس کی توثیق ہوئی ہے اور کہا جارہا ہے کہ ان سے رابطہ میں آنے والے کئی ملازمین آئندہ چند یوم کے دوران کورونا وائرس کے شکار پائے جانے کا خدشہ ہے۔ راجیہ سبھا میں خدمات انجام دینے والے 69 اور لوک سبھا میں خدمات انجام دینے والے 200 ملازمین کے علاوہ 133 سے زیادہ دونوں ایوانوں کے مشترکہ ملازمین کو کورونا وائرس کی توثیق کے بعد پارلیمنٹ سیکریٹریٹ کے عہدیداروں میں بے چینی پائی جانے لگی ہے ۔ ذرائع کے مطابق 400 سے زائد پارلیمنٹ کے عملہ کو کورونا وائرس کی توثیق کے بعد عہدیداروں نے حکومت اور وزارت پارلیمانی امور کو رپورٹ روانہ کردی ہے اور کہا جا رہاہے کہ زائد از 1000 ملازمین اور 300 عہدیداروں کے معائنوں کا سلسلہ جاری ہے ۔مرکزی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں ملازمین کو کورونا وائر س کی توثیق کے بعد صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد بجٹ کے متعلق قطعی فیصلہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ 50 فیصد کی تعداد اور عملہ کے ساتھ پارلیمنٹ سیشن کے انعقاد اور کورونا وائرس کے رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری کے متعلق امور کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد پر بھی نگاہ رکھی جا رہی ہے۔ دہلی میں یومیہ مریضوں کی نشاندہی 20ہزار سے تجاوز کرچکی ہے اور کہا جا رہاہے کہ مرکزی وزارت پارلیمانی امور کی جانب سے تمام ملازمین کے کورونا وائرس معائنوں اور جو ملازمین کورونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں ان کے قرنطینہ و علاج کے علاوہ ان سے رابطہ میں آنے والوں کی تفصیلات کا مشاہدہ کیا جا رہاہے۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے عملہ کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے تو ایسی صورت میں بجٹ سیشن کو آن لائن کرنے کے متعلق بھی غور کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ مرکزی وزارت پارلیمانی امور کی جانب سے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے انعقاد کے لئے عصری ٹیکنالوجی کے استعمال اور تمام ارکان پارلیمان کے ساتھ آن لائن بجٹ سیشن کے انعقاد کا بھی جائزہ لیا جانے لگا ہے۔م