تلنگانہ حکومت کئی اداروں کیلئے اراضیات اور اپنے حصہ کے فنڈز جاری کرنے کیلئے تیار نہیں : جی کشن ریڈی
حیدرآباد : مرکزی مملکتی وزیرداخلہ جی کشن ریڈی نے مرکزی حکومت کی جانب سے جنوبی ہند کی ریاستوں کو نظرانداز کرنے ریاستی وزیر کے ٹی آر کے الزامات کو مسترد کردیا۔ جی کشن ریڈی نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیاست سے بالاتر ہوکر سونچنے پر ہی تلنگانہ کی ترقی ہوگی مگر تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت پر مسئلہ کو سیاسی عینک سے دیکھ رہی ہے جس کی وجہ سے مرکز کی اسکیمات تلنگانہ میں عمل آوری سے قاصر ہورہی ہیں۔ کے ٹی آر میں معلومات کا فقدان ہے۔ اس لئے ہر مسئلہ کو سیاست سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کے مطالبہ کرنے سے قبل مرکزی حکومت نے حیدرآباد کو این سی ڈی سی منظور کیا ہے جس کیلئے ریاستی حکومت نے ابھی تک اراضی مختص نہیں کی ہے۔ کشن ریڈی نے جلد از جلد اراضی مختص کرنے کا تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کیا۔ مرکزی مملکتی وزیرداخلہ نے کہا کہ تلنگانہ کو کئی ادارے مختص کرنے کیلئے مرکزی حکومت نے اپنی طرف سے دلچسپی دکھائی ہے مگر تلنگانہ حکومت نے مثبت ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے اور نہ ہی اراضیات مختص کی جارہی ہیں۔ کشن ریڈی نے بی بی نگر ایمس کی عمارت فوری مرکزی حکومت کے حوالے کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا ٹیکہ کے معاملے میں ریاست تلنگانہ سے تال میل میں کوئی مسائل نہیں ہے۔ عادل آباد، ورنگل کے سوپر اسپشالیٹی ہاسپٹلس کیلئے ریاستی حکومت اپنے حصہ کے فنڈز فوری جاری کریں۔ مرکزی مملکتی وزیرداخلہ نے کہا کہ دوسرے مرحلہ کی ٹیکہ اندازی مہم میں ملک بھر میں 30 کروڑ عوام کو ٹیکہ دیا جائے گا۔