مرکزی حکومت سے نکسلائٹس کو ہندو فاشزم کے طور پر پیش کرنا غیر درست

   

2 دسمبر کو پیپلز لبریشن گوریلا آرمی کا یوم تاسیس ، مختلف پروگرامس کو قطعیت ، کامریڈ جگن کا بیان
حیدرآباد۔28نومبر(سیاست نیوز) مرکزی حکومت نکسلائٹس کو ہندو فاشزم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ یہ درست نہیں ہے۔ حکومت ہند کی جانب سے ماؤسٹ سے پاک ملک کے نام پر دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات بالخصوص اقلیتوں اور درج فہرست قبائل کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) کی جانب سے ملک کی ان ریاستو ںمیں جہاں ماؤسٹ تحریک کے اثرات ہیں پیپلز لبریشن گوریلا آرمی کا 19واں یوم تاسیس 2ڈسمبر کو منایا جائے گا ۔سی پی آئی (ماؤسٹ) ریاستی کمیٹی سربراہ کامریڈ جگن نے ریاست تلنگانہ کے عوام اور پسماندہ طبقات کے علاوہ ہندو فاشسٹوں کے خلاف جدوجہد کرنے والوں سے اپیل کی کہ وہ 2ڈسمبر کو پی ایل جی اے کے قیام کی 19ویںیوم تاسیس میں حصہ لیتے ہوئے سمینار ‘ سمپوزیم اور اجلاس منعقد کریں اور حکومت کی جانب سے کی جانے والی کاروائیوں پر اپنا احتجاج درج کروائیں۔ کامریڈ جگن نے سی پی آئی (ماؤسٹ) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا کہ تحریک کو کچلنے کیلئے مرکزی حکومت کی جانب سے 26اگسٹ کو وزیرداخلہ نے دہلی میں وزرائے اعلی کے ہمراہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے جو فیصلہ کئے ہیں ان کی شدت سے مخالفت کی جانی چاہئے کیونکہ حکومت دلتوں اور پسماندہ طبقات کو ’جئے شری رام‘ کے نعرہ کے ساتھ قتل کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور ماؤسٹ اس طرح کی کسی بھی کاروائی کی تائید نہیں کرتے بلکہ اس طرح کی حرکتوں میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی پر یقین رکھتے ہیں۔انہو ںنے کہا کہ حکومت ہند کی جانب سے ان کمزور طبقات کو نشانہ بناتے ہوئے یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ حکومت ملک کو ماؤسٹوں سے پاک بنانے کی کوشش کررہی ہے جبکہ حکومت ایسا کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی کیونکہ اس نظریہ کو کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس نظریہ کی بنیاد ہی ظلم کے خلاف انصاف کے حصول کے لئے رکھی گئی ہے اور معاشرہ میں ہر شخص انصاف کے حصول کے معاملہ میں کسی بھی طرح کی مفاہمت کے حق میں نہیں ہے اورجو لوگ نا انصافی پر بھی خاموش ہیں وہ دراصل مظلوم ہیں جن کے لئے جدوجہد کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) اپنی ذمہ داری تصور کرتی ہے اور یہ تحریک مسلسل جاری رہے گی جو کہ ہندو فاشسٹ قوتوں کے خلاف شروع کی جاچکی ہے ۔انہو ںنے 2ڈسمبر کو ریاست کے تمام اضلاع میں اجلاس منعقد کرنے اور ان اجلاسوں میں بلا خوف و خطر حصہ لینے کی عوام سے اپیل کی ہے۔