مذاکرات سے مسئلہ کو حل کرنے کے بجائے قبائیلوں پر ظلم، ٹینک بنڈ پر احتجاج ،مختلف تنظیموں کے قائدین کا خطاب
حیدرآباد۔22۔نومبر(سیاست نیوز) ریاست میں بائیں بازو جماعتوں نے مرکزی حکومت کے ’’آپریشن کگار‘‘ کے خلاف متحدہ طور پر احتجاج کرتے ہوئے اس آپریشن کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ مرکزی حکومت مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ کو حل کرنے کے بجائے ماؤسٹوں کے نام پر قبائیلی عوام کو بھی نشانہ بنا رہی ہے اور اس آپریشن کے نام پر ملک کی مختلف ریاستوں میں ماؤسٹ تحریک کو کچلنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ٹینک بنڈ پر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ‘ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ایم) کے علاوہ تلنگانہ جنا سمیتی نے متحدہ طور پر مظاہرہ کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ’’آپریشن کگار‘‘ پر روک لگاتے ہوئے مذاکرات کا آغاز کرے ۔ بائیں بازوجماعتوں کی جانب سے کئے گئے اس احتجاجی پروگرام کے دوران انسانی حقوق سے جڑی تنظیموں اور جہدکاروں نے بھی حصہ لیتے ہوئے حکومت کی جانب سے جنگل میں کی جانے والی کاروائیوں کو غیر انسانی قراردیا اور کہا کہ مرکزی حکومت عصری ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے جنگلاتی علاقوں میں رہنے والوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اس احتجاجی پروگرام میں پروفیسر کودنڈا رام‘ پروفیسر ہرا گوپال ‘ کے علاوہ کے سامبا شیواراؤ سی پی آئی اور دیگر موجود تھے ۔ سیول لبرٹیز تنظیموں سے وابستہ قائدین نے جنگلوں میں ’’آپریشن کگار‘‘ کے نام پر کی جانے والی کاروائیوں کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر مرکزی حکومت بالخصوص وزارت داخلہ کو جنگل میں رہنے والوں سے اتنا ہی خطرہ ہے تو ان خطرات کو ختم کرنے کے لئے بات چیت کا آغاز کیا جا سکتا ہے لیکن بات چیت کے بجائے انہیں نشانہ بنا کر ہلاک کیا جانا انسانیت کو شرمسار کر رہا ہے۔3