سیلاب سے متاثرہ بنگلور کو 600 کروڑ ، گجرات کو 500 کروڑ دئیے گئے ، حیدرآباد نظر انداز : ہریش راؤ
حیدرآباد :۔ ریاستی وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ نے ریاست تلنگانہ سے سوتیلا سلوک کرنے کا مرکزی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بنگلور میں سیلاب آنے پر 600 کروڑ ، گجرات میں سیلاب آنے پر 500 کروڑ روپئے کی امداد دی گئی ۔ مگر حیدرآباد میں سیلاب آنے پر وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے ایک پیسہ کی بھی مدد نہیں کی گئی ہے ۔ اسمبلی حلقہ پٹن چیرو کے بلدی ڈیویژنس پٹن چیرو اور بھارتی نگر کے پارٹی امیدواروں کی انتخابی مہم کے دوران روڈ شو سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں کی حکومتوں سے مکمل تعاون کررہے ہیں ۔ غیر بی جے پی حکومتوں کے ساتھ جانبداری برت رہے ہیں جس کی زندہ مثال تلنگانہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے سیلاب کے متاثرین کے لیے کوئی تعاون نہ کرنے کے باوجود چیف منسٹر کے سی آر تمام متاثرین میں 10 ہزار روپئے تقسیم کررہے تھے ۔ یہ بھی بی جے پی کو دیکھا نہیں گیا ۔ اس نے الیکشن کمیشن کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے متاثرین کی امدادی رقم رکوادی ہے ۔ جس سے سیلاب متاثرین بہت زیادہ پریشان ہیں انہوں نے متاثرین کو تیقن دیا کہ انہیں پریشان یا مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ انتخابات کے بعد حکومت کی جانب سے دوبارہ متاثرین میں امدادی رقم تقسیم کی جائے گی ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ ٹی آر ایس ترقی کو ایجنڈا بناکر جی ایچ ایم سی کے انتخابات میں مقابلہ کررہی ہے ۔ حکومت کی جانب سے گذشتہ 6 سال کے دوران تلنگانہ اور گریٹر حیدرآباد میں جو ترقیاتی اقدامات کئے گئے ہیں اس کو موضوع بناتے ہوئے انتخابی مہم چلا رہی ہے ۔ مگر بی جے پی مذہبی جذبات بھڑکاتے ہوئے انتخابی مہم چلا رہی ہے ۔ ہر دن ایک نیا زہر اگلتے ہیں شہر کی پرامن فضا کو خراب کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ اس پر عوام کو توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ مودی نے بی جے پی کو اقتدار حاصل ہونے پر ہر سال 2 کروڑ ملازمتیں دینے کا وعدہ کیا تھا اس کو فراموش کردیا ۔ بیرونی ممالک سے ابھی تک کالا دھن نہیں آیا اور نہ ہی کسی شہری کے بینک اکاونٹ میں 15 لاکھ روپئے جمع ہوئے ہیں ۔ بی جے پی سوشیل میڈیا کا غلط استعمال کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کررہی ہے ۔ ہریش راؤ نے ووٹ کی طاقت سے بی جے پی کے ناپاک عزائم کو شکست دینے کی گریٹر حیدرآباد کے عوام سے اپیل کی ہے ۔۔