مرکزی حکومت کا مجوزہ نیا قانون اوقافی جائیدادوں کیلئے نقصاندہ

   

ماہرین کا اظہار تشویش، تلنگانہ میں بیشتر اراضیات پر ناجائز قبضے، کئی جائیدادوں پر حکومت کی دعویداری
حیدرآباد۔/6 اگسٹ، ( سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے موجودہ وقف قانون میں ترمیمات کے فیصلہ سے ملک میں اوقافی جائیدادوں کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ وقف بورڈز کے اختیارات میں کمی کیلئے مرکزی حکومت جاریہ پارلیمنٹ سیشن میں ترمیمی بل پیش کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے جس کے تحت وقف قانون 2013 میں تقریباً 40 مختلف ترمیمات کی تجویز ہے۔ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا معاملہ ملک کے تمام وقف بورڈز کیلئے ایک چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے وقت جبکہ وقف بورڈ کو زائد اختیارات کا مطالبہ کیا جارہا ہے مرکز کی بی جے پی حکومت موجودہ اختیارات کو چھیننا چاہتی ہے۔ اوقافی امور سے متعلق ماہرین نے حکومت کی جانب سے مجوزہ ترامیم کو اوقافی جائیدادوں کیلئے نقصاندہ قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی اوقافی جائیداد کے بارے میں کوئی بھی انفرادی شخص اپنی دعویداری پیش کرنے کیلئے آزاد رہے گا۔ تلنگانہ وقف بورڈ کے تحت ہائی کورٹ، وقف ٹریبونل اور دیگر عدالتوں میں تقریباً 4 ہزار سے زائد مقدمات زیر التواء ہیں اورکئی ایسی جائیدادیں ہیں جن پر حکومت نے اپنی دعویداری پیش کی ہے۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں حکومت کے حق میں بعض فیصلے سنائے گئے اور وقف بورڈ کے دعوؤں کو مسترد کردیا گیا۔ مرکزی حکومت کی نئی قانون سازی کی صورت میں ایسی متنازعہ جائیدادوں کو یقینی طور پر خطرہ لاحق ہوگا۔ تلنگانہ اوقافی جائیدادوں کے معاملہ میں ملک کی ایک اہم ریاست ہے۔ تلنگانہ وقف بورڈ کے تحت 77538 ایکر اراضیات ہیں اور 33929 بڑی اور چھوٹی اوقافی جائیدادیں ہیں ان میں سے تقریباً 30 ہزار ایکر وقف بورڈ کے قبضہ میں ہے جبکہ باقی پر ناجائز قابضین ہیں۔ کئی اراضیات کے معاملہ میں بورڈ اور حکومت کے درمیان کئی دہوں سے ملکیت کا تنازعہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تلنگانہ میں مادھاپور، ہائی ٹیک سٹی، منی کونڈہ، جوبلی ہلز اور دیگر علاقوں میں ہزاروں ایکر وقف اراضی موجود ہے لیکن بیشتر اراضی پر حکومت نے اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہوئے خانگی اداروں کے حوالے کردیا۔ ماہرین کے مطابق وقف بورڈ کو اختیارات کی کمی اور اراضیات کے سروے سے متعلق ماہر اور تجربہ کار اسٹاف کی کمی کے سبب بورڈ کو اپنے دعویٰ کو مضبوط کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ وقف ٹریبونل اور ہائی کورٹ میں اراضیات سے متعلق تنازعات پر موثر پیروی کیلئے قابل وکلاء کی کمی ہے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ اوقافی جائیدادوں کی تباہی کیلئے بورڈز سے وابستہ عہدیدار ذمہ دار رہے ہیں۔ ستمبر 2020 میں اس وقت کی کے سی آر حکومت نے اوقافی جائیدادوں کے رجسٹریشن پر امتناع عائد کرتے ہوئے اوقافی اراضیات اور جائیدادوں کو ممنوعہ فہرست میں شامل کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کے اس فیصلہ کو عدالت میں چیلنج کیا گیا کیونکہ شہر کے مضافاتی علاقہ میں موجود وقف اراضیات پر خانگی افراد کی دعویداری ہے۔ اطلاعات کے مطابق مرکزی حکومت 9 یا 12 اگسٹ کو پارلیمنٹ میں ترمیمی قانون پیش کرے گی۔ اگر پارلیمنٹ کے آخری دن یعنی 12 اگسٹ کو بل پیش نہیں کیا جاسکا تو آئندہ مانسون سیشن کیلئے رکھا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ نئی ترامیم میں مرکزی حکومت بورڈز میں خاتون ارکان کی تعداد میں اضافہ کا منصوبہ رکھتی ہے۔ 1