پٹرول اور ڈیزل پر سیس سے دستبرداری ، تلنگانہ سے دھان کی مکمل فصل خریدنے کا مطالبہ
حیدرآباد : /11 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ کی برسراقتدار ٹی آر ایس کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل پر سیس سے دستبرداری اور پنجاب کی طرح تلنگانہ میں دھان کی مکمل فصل خریدنے کے مطالبہ پر جمعہ /12 نومبر کو ریاست کے تمام اسمبلی حلقوں کے ہیڈکوارٹرس میں دھرنا منظم کیا جارہا ہے ۔ 2014 ء میں برسراقتدار آنے کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب ٹی آر ایس بڑے پیمانے پر احتجاج کررہی ہے ۔ قبل ازیں ریاست کی تشکیل کے کچھ عرصہ بعد ہی اُس وقت مرکز کے خلاف دھرنا منظم کیا گیا تھا جب ضلع کھم کے 7 منڈلوں کو آندھراپردیش میں ضم کردیا گیا تھا ۔ پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے یہ انتباہ دیا کہ ریاست سے دھان کی مکمل خریداری کے مطالبہ کو منظور کرنے تک مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالاجائے گا ۔ ٹی آر ایس کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل پر سیس ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا جارہا ہے تاکہ ان کی قیمتوں میں کمی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے ۔ چیف منسٹر نے کسانوں سے آنے والے ربیع سیزن میں دھان نہ بونے کی اپیل کی ہے ۔ تاہم چیف منسٹر نے کہا کہ جو کسان دھان کی فصل اگانا چاہتے ہیں ان پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جاسکتی اگر وہ سیڈ کمپنیوں سے معاہدہ کرچکے ہیں ۔ تلنگانہ سے دھان کی خریداری کے مطالبہ کو نظرانداز کرنے کا مرکز پر الزام عائد کیا گیا ۔ تلنگانہ میں سالانہ 3 کروڑ ٹن دھان کی پیداوار ہوتی ہے ۔ یہاں یہ بات دلچسپ ہے کہ ٹی آر ایس مرکزی حکومتوں کی پالیسیوں کے خلاف ٹینک بنڈ پر واقع دھرنا چوک پر احتجاج منظم کررہی ہے جس نے اُس مقام پر دھرنوں پر امتناع عائد کیا تھا ۔ اندرا پارک کے قریب دھرنا چوک احتجاج کے انعقاد کیلئے جانا جاتا ہے ۔