مرکزی حکومت کے بجٹ میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود نظرانداز

   

Ferty9 Clinic

وزیراعظم کا نعرہ سب کا وکاس سب کا وشواس بکواس، محمد علی شبیر کا شدید ردعمل

حیدرآباد 7 جولائی (سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر قائد محمد علی شبیر نے مرکزی حکومت کے بجٹ میں اقلیتی بہبود کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم کا نعرہ سب کا وکاس سب کا وشواس محض بکواس ہے۔ بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہاکہ گزشتہ سال کے مقابلہ اقلیتی بہبود کے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ 2018-19 میں اقلیتی بہبود کا بجٹ 4700 کروڑ تھا جو جاریہ سال بھی برقرار رکھا گیا۔ 2017-18 میں 4195 کروڑ بجٹ تھا جبکہ 2016-17 میں اقلیتی بہبود کے لئے 3800 کروڑ مختص کئے گئے تھے۔ وزیراعظم کو اقلیتوں کی ترقی سے محض زبانی ہمدردی ہے اور وہ مناسب بجٹ مختص کرنے تیار نہیں۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ ملک کی دوسری بڑی اکثریت کو بجٹ میں محروم کردیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بجٹ میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کرتے ہوئے جانبداری کا مظاہرہ کیا گیا۔ محمد علی شبیر نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیاکہ 2014 ء سے آج تک مرکز سے حاصل ہونے والے فنڈس پر وائٹ پیپر جاری کریں کہ کس طرح پراجکٹس کی تکمیل کریں گے۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ تو نہیں ہوا اُلٹا اقلیتی طلباء کے اسکالرشپ کی رقم میں کمی کردی گئی۔ حج سبسیڈی برخاست کرتے ہوئے اقلیتوں کی تعلیمی ترقی پر خرچ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس کا بجٹ میں کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ وزیر اقلیتی اُمور مختار عباس نقوی کو وضاحت کرنی چاہئے۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ بجٹ میں تلنگانہ سے ناانصافی کے لئے چیف منسٹر کے سی آر ذمہ دار ہیں۔ گزشتہ 5 برسوں میں کے سی آر نے مودی حکومت کی تائید کی لیکن بجٹ میں تلنگانہ کو انصاف حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے۔ اُنھوں نے کہاکہ مرکز سے گزشتہ 5 برسوں میں حاصل فنڈس پر کے سی آر حکومت کو وائٹ پیپر جاری کرنا چاہئے۔ محمد علی شبیر نے الزام عائد کیاکہ مرکز اور ریاست کی حکومتیں وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہوچکی ہیں۔