یو اے پی اے کی برخواستگی کے مطالبہ پر اتوار کو سیول لبرٹیز کمیٹی و دیگر تنظیموں کا اجلاس
حیدرآباد۔/22جون، ( سیاست نیوز) ملک میں ایمرجنسی جیسے حالات پیدا رکرنے کے الزامات کا سامنا کرنے والی مودی حکومت کے خلاف جہد کاروں نے اپنی آواز بلند کردی ہے۔ یو اے پی اے کو ایک سیاہ قانو ن قرار دیتے ہوئے اس کو فوری برخواست کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔25 جون کی شام 6 بجے سیول لبرٹیز کمیٹی اور ہم خیال تنظیموں کی جانب سے ایک احتجاجی اجلاس منعقد کیا جارہا ہے۔ شعیب ہال مندالیا ویگنا کیندرم میں اس اجلاس میں دانشوروں نے اپنی شرکت کی توثیق کردی ہے۔ سیول لبرٹیز کمیٹی، پی یو سی ایل اور او پی ڈی آر تنظیموں کی جانب سے منعقد ہونے والے اس مجوزہ اجلاس کی صدارت سیول لبرٹیز کمیٹی کے صدر پروفیسر گڈم لکشمن کریں گے جبکہ اجلاس کو پروفیسر ہرا گوپال ، این وینو گوپال، لکشمی دیو، ڈاکٹر تروپتیا، جیہ ویند بالا اور نارائن راؤ مخاطب کریں گے۔ سیول لبرٹیز قائدین نے یو اے پی اے کو برخواست کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تاڑوائی کیس کے علاوہ تمام یو اے پی اے مقدمات کو برخواست کرنے کا مطالبہ کیا۔ سیول لبرٹیز نے تاڑوائی کیس میں شامل کئے گئے تمام افراد کو مقدمہ سے بری کرتے ہوئے حکومت تلنگانہ سے خواہش کی کہ وہ اس سیاہ قانون کو ریاست سے برخواست کردیں۔ سیول لبرٹیز قائدین نے تلنگانہ کی کے سی آر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ راست اور بالراست کے سی آر حکومت مودی کے اصولوں کی تائید کررہی ہے اور سوال کرنے والوں کو سیاہ قانون کے ذریعہ کچلا جارہا ہے اور انسانی حقوق کو آہنی پنجہ سے کچلنے کے سرکاری طور پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ سیول لبرٹیز قائدین نے یو اے پی اے کے خلاف منعقدہ اس احتجاجی اجلاس میں شرکت کرنے کی عوام سے خواہش کی ہے اور دستوری حق کے تحفظ اور اس کی بحالی کیلئے شہریوں کو آواز بلند کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ سیول لبرٹیز نے فادر اٹان سوامی اور باندو نریٹا کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔ع