مرکزی حکومت کے فنڈس کے بغیر کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر

   


ہنمکنڈہ میں بی جے پی کا جلسہ فلاپ شو، ریاستی وزیر پنچایت راج دیاکر راؤ کی پریس کانفرنس
ورنگل۔ 28؍اگسٹ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)۔ ریاستی وزیر پنچایت راج ایرابیلی دیا کر رائو نے ہنمکنڈہ میں ہوئے بی جے پی کے جلسہ عام اورمخاطب کرنے والے بی جے پی قائدین کے رویہ کے خلاف شدید برہمی کا اظہار کر تے ہوئے ان کے تقاریر کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی کا جلسہ عام بٹر فلاپ ہوگیا ہے۔ دیا کر رائو نے کہاکہ بی جے پی قائدین یہ کہہ رہے ہیں کہ جلسہ میں 1لاکھ افراد نے شرکت کی جبکہ حقیقت میں اس جلسہ میں 20 تا 30 ہزار افراد نے بھی شرکت نہیں کی۔ انہوںنے کل رات آر اینڈ بی گیسٹ ہائوز ہنمکنڈہ میں پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ جن لوگوں نے اس جلسہ میں شرکت کی وہ مقامی ہیں نہ ریاست کے ہیں بلکہ دیگر ریاستوں سیبلوایا گیا ہے۔ بی جے پی کے قومی صدر نے کچھ خاص تقریر نہیں کی اور نہ ہی کچھ نئی بات کہی گئی۔ انہوںنے کہاکہ شاید قومی صدر بی جے پی جے پی نڈا کو یہ نہیں معلوم کہ تلنگانہ حکومت نے ریاست میں بنا کسی خلل کے 24گھنٹے برقی سربراہ کررہی ہے۔ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ روشنی والے ریاستوں کو بی جے پی نے اندھیروں میں ڈھکیل دیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ عوام کی تائید سے تلنگانہ تحریک چلا کر تلنگانہ کو آزاد کرایا گیا۔ اب ملک سے بی جے پی وموکت بھارت تحریک کا آغاز ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ مرکزی حکومت نے تلنگانہ کے لئے کوئی فند جاری نہیں کیا ہے جبکہ ٹیکس کی شکل نے تلنگانہ نے ہی مرکز کو کروڑوں روپئے فراہم کیا ہے۔ مرکزی حکومت کے فنڈس کے بغیر کالیشورم پراجیکٹ کی تعمیر عمل میں لائی گئی۔ مشن بھاگیرتا کے ذریعہ گھر گھر نلوں کے ذریعہ پانی سربراہ کیا جارہاہے۔ مشن کاکتیہ کے ذریعہ تمام تالابوں کی بازیابی کی گئی۔ مرکز 215کروڑ وظائف جاری کررہی ہے جبکہ تلنگانہ حکومت وظائف پر سالانہ 12ہزار 500کروڑ روپئے خرچ کررہی ہے۔ کیا مرکز کسی ریاست میں اس طرح دے رہی ہے ؟چیف منسٹر کے سی آر کوبی جے پی گھر بھیجنے کی بات کیوں کررہے ہیں کیا اس لئے کہ وہ ریاست تلنگانہ کو ہر شعبہ میں نمبر ون ترقی دی ہے۔