مرکزی زرعی قوانین کے خلاف رنگا ریڈی میں کسانوں کی دستخطی مہم

   

اے آئی سی سی جنرل سکریٹری مانکیم ٹیگور کی شرکت، کسانوں میں مرکز کے خلاف ناراضگی
حیدرآباد: جنرل سکریٹری اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ مانکیم ٹیگور ایم پی نے مرکزی حکومت کی زرعی قوانین کے خلاف رنگا ریڈی ضلع میں کسانوں کی دستخطی مہم میں حصہ لیا۔ چیوڑلہ اسمبلی حلقہ میں بڑے پیمانہ پر دستخطی مہم کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں ورکنگ پریسیڈنٹ پونم پربھاکر ، کسم کمار ، کسان سیل کے صدرنشین ایم کودنڈا ریڈی اور اے آئی سی سی سکریٹری بوس راجو نے شرکت کی۔ کسانوںکی کثیر تعداد نے اس پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے مرکزی قوانین سے دستبرداری کا مطالبہ کرتے ہوئے دستخط کی۔ کسانوں کا ماننا ہے کہ نئے قوانین کے ذریعہ اقل ترین امدادی قیمت سے محروم کرنے کی سازش ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مانکیم ٹیگور نے کہا کہ قوانین سے دستبرداری تک کانگریس پارٹی احتجاج جاری رکھے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں کسانوںکی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت کارپوریٹ شعبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے زرعی شعبہ کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔ مانکیم ٹیگور نے ٹی آر ایس حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پارلیمنٹ میں مرکزی قوانین کی رسمی طور پر مخالفت کرتے ہوئے ٹی آر ایس نے خاموشی اختیار کرلی ہے ۔ تلنگانہ میں مرکزی قوانین پر عمل آوری روکنے کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اے آئی سی سی جنرل سکریٹری نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل سے کے سی آر خاندان کو فائدہ ہوا ہے۔ کے سی آر خاندان بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کے ذریعہ بھاری رقومات حاصل کر رہا ہے۔