نیتی آیوگ کے نائب صدرنشین کو ونود کمار کا مکتوب، 33 اضلاع میں اسکولوں کی منظوری کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 31 جنوری (سیاست نیوز) نائب صدرنشین تلنگانہ اسٹیٹ پلاننگ بورڈ بی ونود کمار نے نائب صدرنشین نیتی آیوگ نئی دہلی راجیو کمار کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے تلنگانہ میں نوودیا اسکولوں کی منظوری میں ریاست کے ساتھ ناانصافی کی شکایت کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے نوودیا اسکولس چلائے جاتے ہیں اور اسکولوں کے قیام سے تعلیم کو عام کرنے میں مدد ملتی ہے۔ خاص طور پر کمزور طبقات کے ذہین طلبہ کو تعلیم میں مدد کے لیے یہ اسکولس اہم رول ادا کررہے ہیں۔ نوقائم شدہ تلنگانہ ریاست میں اضلاع کی تعداد کو 10سے بڑھاکر 33 کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے وزیراعظم سے درخواست کی تھی کہ تلنگانہ کے لیے نئے نوودیا اسکولس کی منظوری دی جائے تاکہ ہر ضلع میں کم از کم ایک اسکول قائم کیا جاسکے۔ ونود کمار نے افسوس کا اظہار کیا کہ مرکز کی اعانت سے چلنے والے اسکولوں کو شمالی ہند اور وسطی ہندوستان کے علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ 33 اضلاع اور 35.2 ملین آبادی کے لیے صرف 9 اسکولوں کی منظوری صریح ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ اور آسام جیسی ریاستوں میں جہاں آبادی تلنگانہ کے مقابلے کم ہے، اس کے باوجود نوودیا اسکولوں کی تعداد تلنگانہ سے دوگنی ہے۔ تلنگانہ ملک کی نوجوان ریاست ہے لہٰذا وہاں ہر ضلع میں کم از کم ایک اسکول کی ضرورت ہے۔ ونود کمار نے بتایا کہ 16 ویں لوک سبھا کے رکن کی حیثیت سے انہوں نے ساتھی ارکان پارلیمنٹ کے ہمراہ پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا۔ تلنگانہ کے موجودہ ارکان پارلیمنٹ نے بھی بارہا مرکز سے نمائندگی کی۔ ونود کمار نے کہا کہ تعلیم میں ملک کی دیگر ریاستیں تلنگانہ سے پسماندہ ہیں اس کے باوجود اسکولوں کے الاٹمنٹ میں تلنگانہ سے ناانصافی کی گئی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو کی قیادت میں حکومت تعلیمی شعبے پر خصوصی توجہ مرکوز کرچکی ہے۔ زائد خواتین والے علاقوں میں بہتر سہولیات کے ساتھ گرلز اسکولس قائم کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی کاوشوں میں تعاون اور معیاری تعلیم کی فراہمی میں مدد کے لیے نیتی آیوگ کو چاہئے کہ وہ تلنگانہ کے ہر ضلع میں ایک نوودیا اسکول کی سفارش کرے۔ ونود کمار نے بتایا کہ ملک بھر میں 661 جواہر نوودیا ودیالیاس قائم ہیں جن میں تلنگانہ میں 9 اور آندھراپردیش میں 15 قائم کئے گئے۔ چھتیس گڑھ کے لیے 28، مدھیہ پردیش 52، اوڑیسہ 31، ہماچل پردیش 12، جموں و کشمیر 23، پنجاب 23، کرناٹک 31، کیرالا 14، دہلی 9 ، ہریانہ 21، راجستھان 35، اترپردیش 76، بہار 39، جھارکھنڈ 26، مغربی بنگال 20، آسام 28، منی پور 11، میگھالیہ 12، میزورم 8، ناگالینڈ 11 اور تریپورہ میں 8 اسکولس قائم کئے گئے۔