نئی دہلی: جب ہم عالمی مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہیں، تو انسانوں پر مرکوز نقطہ نظر کو سب سے آگے ہونا چاہیے ۔[؟] حال ہی میں اقوام متحدہ کے ‘مستقبل کے سربراہی اجلاس’ میں ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی کے یہ الفاظ لوگوں کو اولین ترجیح دینے کے ہندوستان کے وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس فلسفے نے ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن (ڈی پی ڈی پی) قواعد، 2025 کے مسودے کی تشکیل میں ہماری کوششوں کی رہنمائی کی ہے ۔ قواعد کو حتمی شکل دینے کے بعد، ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ، 2023 کو عملی جامہ پہنایا جائے گا، جس سے شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے حق کی حفاظت کے لیے ہمارے عزم کو تقویت حاصل ہوگی۔ان خیالات کا اظہارالیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی، اطلاعات و نشریات اور ریلوے کے مرکزی وزیراشونی ویشنونے اپنے مضمون میں کیاہے ۔ مرکزی وزیرکے مطابق ہندوستانی شہری ڈی پی ڈی پی قواعد 2025 کے مرکز میں ہیں۔ ڈیٹا کے بڑھتے ہوئے غلبے والی دنیا میں ہم سمجھتے ہیں کہ لوگوں کو حکمرانی کے ڈھانچے کے مرکز میں رکھنا ضروری ہے ۔ یہ قوانین شہریوں کو باخبر رضامندی، ڈیٹا مٹانے اور ڈیجیٹل نامزد افراد کو مقرر کرنے کی اہلیت جیسے اختیار فراہم کرتے ہیں۔ شہری اب خلاف ورزیوں یا ڈیٹا کے غیر مجاز استعمال کے سامنے خود کو بے بس محسوس نہیں کریں گے ۔ ان کے پاس اپنی ڈیجیٹل شناخت کو مؤثر طریقے سے محفوظ رکھنے اور ان کا نظم کرنے والے ٹول ہوں گے ۔