دہلی پہنچنے والے تلنگانہ وزرا کے وفد کیخلاف کئے گئے ریمارکس سے دستبرداری کامطالبہ: ہریش راؤ
حیدرآباد۔ 22 ڈسمبر (سیاست نیوز) ریاستی وزیر فینانس و صحت ٹی ہریش راؤ نے مرکزی وزیر پیوش گوئل پر تلنگانہ کی توہین کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے فوری معذرت خواہی کرنے اور اپنے ریمارکس سے دستبرداری اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔ آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے مرکزی وزیر پیوش گوئل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دھان کی خریدی کے مسئلہ پر مرکز سے تبادلہ خیال کرنے کے لئے دہلی پہنچنے والے تلنگانہ کے وزرا کے تعلق سے پیوش گوئل نے جو ریمارکس کیا ہے وہ قابل مذمت ہے۔ ریاستی وزرا تلنگانہ کے 70 لاکھ کسان اور 4 کروڑ عوام کی نمائندگی کرنے کے لئے دہلی پہنچے تھے جس پر مرکزی وزیر نے ریمارک کیا کہ ’’تمہیں اور کام نہیں ہے کیا‘‘ انہوںنے اس طرح کا سوال کرتے ہوئے تلنگانہ عوام کی توہین کی ہے۔ پیوش گوئل فوری اپنے ریمارکس سے دستبرداری اور غیر مشروط معذرت خواہی کریں۔ مرکز کی جانب سے پہلے بائیلڈ رائس خریدنے سے انکار کردیا گیا، مستقبل میں ریاست سے دھان نہ خریدنے کا بھی اعلان کیا جاسکتا ہے۔ مرکز کی جانب سے 40 لاکھ میٹرک دھان خریدنے کا کوٹہ مکمل ہوگیا۔ مزید دھان کی خریدی کے مسئلہ پر بات چیت کرنے کے لئے وزرا کا وفد دہلی پہنچنا تھا لیکن تلنگانہ وزرا کی توہین کرنا غیر مناسب ہے۔ مرکزی وزرا پر ہی سیاسی ڈرامہ کرنے کا ہریش راؤ نے الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی وزرا کا وفد دہلی میں تین دن تک رہا مگر ان سے ملاقات کرنے کی بجائے تلنگانہ کے بی جے پی کے قائدین کو دہلی طلب کرتے ہوئے تبادلہ خیال کیا گیا۔ بی جے پی کی جانب سے دھان خریدنے کے مسئلہ پر سیاست کرتے ہوئے ٹی آر ایس پر جھوٹے الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کی تشکیل تلنگانہ کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے کی گئی ہے۔ کئی قربانیوں کے بعد علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل وجود میں آئی ہے۔ تلنگانہ وزرا کے وفد نے تلنگانہ سے دھان کی خریدی کے مسئلہ پر تحریری طور پر وعدہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس پر ردعمل کا اظہار کرنے کی بجائے ٹی آر ایس پر الزامات عائد کئے جارہے ہیں۔ ن