مرکزی وزیر کے قافلے پر مغربی مدنا پور میں حملہ

   

ترنمول کانگریس اور بی جے پی کا ایک دوسرے پر الزام ، ترنمول کی تردید

کولکتہ : ایک صدمہ انگیز واقعہ میں مرکزی وزیر مملکت برائے اُمور خارجہ وی مرلی دھرن پر ایک نامعلوم اشرار کے گروپ نے ضلع مغربی مدنا پور کے علاقہ پنچی کون میں حملہ کیا ۔ آج دوپہر کے اس حملہ کا الزام بی جے پی نے ٹی ایم سی کے غنڈوں کی کارستانی قرار دیا ۔ لیکن ٹی ایم سی قیادت نے اس کی پُرزور تردید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی قیادت عوام کو تشدد پر اکسارہی ہے ۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب کہ مرلی دھرن بی جے پی کے وزیر مملکت راہول سنہا کے ساتھ گھاٹل مشرقی مدنا پور جارہے تھے تاکہ بی جے پی کے چند حامیوں کے ساتھ ملاقات کرسکیں ۔ یہ افراد حملہ کے دوران جس کاالزام ٹی ایم سی کے غنڈوں پر عائد کیا جارہا ہے زخمی ہوگئے جب کہ یہ قافلہ جو پنچ پون مغربی مدنا پور میں گرپڑا ۔ اچانک گاڑی پر خشت باری کا آغاز ہوگیا تھا ۔ جس کا الزام عوام پر لاٹھی چارج اور دیگر اشیاء کے ذریعہ دیا گیا جس کی وجہ سے گاڑی رک گئی ۔ انہوں نے ایک ویڈیو ٹوئیٹر پر شائع کیا اور تحریر کیا کہ ’’ ٹی ایم سی کے غنڈوں نے مغربی مدنا پور میں میرے قافلے پر حملہ کیا ۔ کھڑکیاں توڑ ڈالی ، شخصی حملے کے ارکان پر حملے کئے اور مجھے اپنا دورہ مختصر کرنا پڑا ۔ بعدازاں پریس کانفرنس میں مرکزی وزیر نے کہا کہ ’’ حملہ ٹی ایم سی کارکنوں کی سازش کا نتیجہ تھا ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ پولیس کی موجودگی میں پیش آیا ۔ انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی حکومت نے چشم پوشی کی ۔ میں اس کی اطلاع مرکزی حکومت کو دے دوں گا ۔ وزارت داخلہ سے حکومت مغربی بنگال نے خواہش کی ہے کہ جگدیپ دھنکر اس کے بارے میں ایک رپورٹ روانہ کریں کہ ریاست کی نظم و ضبط کی صورتحال کیسی ہے ۔