تدریسی و غیر تدریسی عملہ کو تنخواہوں کی اجرائی کا مسئلہ ، قومی سطح کے اسکولس تنظیموں کی اپیل
حیدرآباد۔2اپریل (سیاست نیوز) قومی سطح پر موجود خانگی اسکولوں کی تنظیم کی جانب سے مرکزی حکومت کے ساتھ ریاستی حکومتوں کو اپیل کی گئی ہے کہ وہ اسکولوں کی تین ماہ کی فیس معافی کے سلسلہ میں کوئی احکام جاری نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے اس کے منفی اثرات خانگی اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے 2کروڑ سے زائد اساتذہ پر مرتب ہوں گے۔ حکومت کی جانب سے خانگی اسکولوںکی فیس تین ماہ کیلئے معاف کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اس کے خلاف اسکولوں کے انتظامیہ نے حکومت کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اپیل کی وہ ایسا کوئی قدم نہ اٹھائیں کیونکہ اسکول انتظامیہ اپنے تدریسی و غیر تدریسی عملہ کو تنخواہیں جاری کرنے کے موقف میں نہیں رہیں گے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومتوں کو دیئے گئے احکام میں اسکولوں کی فیس کی معافی کے عمل کا جائزہ لینے کی بھی ہدایات جاری کی گئی ہیںاسی لئے نیشنل انڈیپنڈینٹ اسکول الائنس کی جانب سے یہ مکتوب روانہ کیا گیا ہے۔ اسکول انتظامیہ نے مکتوب میں فیس کے ذریعہ کی جانے والی ادئیگیوں کی تفصیلات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کئی اسکولوں کی آمدنی کا انحصار مکمل طور پر فیس پر ہی ہے اسی لئے ایسے کسی فیصلہ سے قبل حکومت کو غور کرنا چاہئے ۔ اسکول انتظامیہ کے اس مکتوب سے قبل ملک کی بیشتر ریاستوں میں اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کی جانب سے حکومت سے اپیل کی گئی تھی کہ موجودہ لاک ڈاؤن کے سبب وہ اسکولوں کی فیس ادا کرنے سے قاصر ہیں اسی لئے ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت کو نہ صرف مکان کا کرایہ بلکہ اسکول فیس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کی جانب سے تاحال اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے لیکن عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے وہ اس سلسلہ میں قابل قبول پالیسی تیار کرتے ہوئے حکومت کو تجاویز اور سفارشات پیش کرے۔
