مرکزی و ریاستی حکومتوں کے اقدامات سے عدالتیں اور عوام ناخوش

   

رضاکارانہ لاک ڈاؤن کے ذریعہ عوام خود کو محفوظ رکھنے کوشاں، متعدد علاقوں میں عوام کی لاپرواہی عام
حیدرآباد: ملک میں کورونا وائرس کے مریضو ںکی تعداد میں ہونے والے یومیہ اضافہ کودیکھتے ہوئے ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت کی جانب سے جو اقدامات کئے جا رہے ہیں ان سے نہ عدالتیں خوش ہیں اور نہ ہی عوام مطمئن ہیں کیونکہ حکومت کی جانب سے کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کے اقدامات کو ناکافی تصور کیا جا رہا ہے ۔ مارچ 2020کے دوران کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے سوشل میڈیا بالخصوص ٹوئیٹر پر ہیش ٹیگ شروع کرتے ہوئے #StayHomeStaySafe کا پیغام عام کیا گیا تھا اور اب دوبارہ اس ہیش ٹیگ کو استعمال کرتے ہوئے شہری ایک دوسرے کو پیغام دے رہے ہیں کہ گھروں میں رہیں اور محفوظ رہیں ۔سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر عوامی رائے ہموار کی جانے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ عوام کو اپنے طور پر گھروں میں بند رہنے کو ترجیح دینی چاہئے تاکہ ملک میں کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔ ان حالات میں کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے سلسلہ میں عوام کی جانب سے مکمل لاک ڈاؤن کی حمایت کی جانے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ مریضوںکی تعداد پر قابو پانے کے لئے شہریوں کوحکومت کی جانب سے سختیوں کا انتظار کئے بغیر اپنے طور پر رضاکارانہ لاک ڈاؤن کی صورتحال اختیار کرنی چاہئے ۔سوشل میڈیا پر گشت کرنے والوں پیغام میں کہا جا رہاہے کہ حکومت نے شہریوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے اور شہریوں کو اپنی حفاظت آپ کے نظریہ پر عمل کرتے ہوئے گھروں میں رہنا چاہئے ۔ ملک کی کئی ریاستو ںمیں ایسی کالونیاں جو کہ انفارمیشن ٹکنالوجی شعبہ میں خدمات انجام دینے والوں کی ہیں ان کالونیوں میں رضاکارانہ طور پر شہریوں کی جانب سے گھروں سے نکلنا بند کردیا گیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ وہ گھر میں ہی خود کو محفوظ تصور کررہے ہیں اور باہر گھومنے کی صورت میں انہیں وائر س کا شکار ہونے کا خدشہ ہے اسی لئے باہر گھومنے سے اجتناب کرتے ہوئے وہ گھر سے کام کاج کو ترجیح دے رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر جاری گھر میں رہیں محفوظ رہیں مہم کے مثبت نتائج برآمد ہونے لگے ہیں اور لوگ ازخود گھروں میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود شہر حیدرآباد کے بعض علاقو ںمیں رات کے اوقات میں کرفیو کے باوجود شہریوں کی جانب سے گھومنے پھرنے اور گھروں سے نکلنے کا سلسلہ جاری ہے ۔کورونا وائرس کے سلسلہ میں شعور بیداری کرنے والی تنظیموں اور اداروں کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ جو لوگ ضرورت کے تحت گھروں سے نکل رہے ہیں وہ بھی پوری احتیاط کے ساتھ نکلیں لیکن اب بھی شہر کے بعض علاقوں میں رات کے اوقات میں بھی کرفیو کے اصولوں کی پابندی نہیں کی جا رہی ہے۔