مرکز سے تلنگانہ کو ایک نئے پیسے کی امداد حاصل نہیں ہوئی

   

آتما نربھر پیاکیج تلنگانہ کیلئے بے فیض، اسمبلی میں ریاستی وزیر کے ٹی راما راو کا دعویٰ
حیدرآباد : ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق و انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راو نے مرکزکی نریندر مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے تقسیم آندھراپردیش بل کے وعدوں سے انحراف کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ سے ناانصافی کرنے کا الزام عائد کیا۔ مرکز کے آتما نربھر پیاکیج سے ریاست تلنگانہ کو کوئی فائدہ نہ ہونے کا دعویٰ کیا۔ آج اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ارکان کی جانب سے ٹی ایس آئی پاس کے تحت صنعتوں کے قیام پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کے ٹی راما راو نے مرکز کو پھر ایک بار تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ تلنگانہ کی ترقی کو مرکز کی نریندر مودی حکومت نظرانداز کررہی ہے۔ مرکز سے ریاست کو کوئی فنڈز جاری نہیں ہورہے ہیں یہاں تک علحدہ ریاست کی تشکیل کے موقع پر پارلیمنٹ میں پیش کردہ تقسیم آندھراپردیش کے بل میں جو وعدے کئے گئے، مرکزی حکومت ان کا بھی احترام نہیں کررہی ہے۔ تنظیم جدید آندھرا پردیش کے بل میں واضح کیا گیا تھا کہ دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور آندھراپردیش میں صنعتوں کے قیام کیلئے مرکز کی جانب سے رعایتیں فراہم کی جائیں گی لیکن اس معاملے میں ابھی تک صنعتوں کے قیام کیلئے کوئی رعایت نہیں دی گئی ہے۔ کم از کم مرکزی حکومت اس معاملے میں ابھی تو سنجیدگی سے غور کریں اور تلنگانہ کیلئے خصوصی رعایتوں کا اعلان کریں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ گذشتہ 6 سال سے نریندر مودی حکومت نے تلنگانہ کو ایک پیسہ بھی نہیں دیا۔ ریاست تلنگانہ کی ترقی و بہبود کیلئے مرکزی حکومت نے کوئی مالی تعاون پیش نہیں کیا۔ پارلیمنٹ میں کی گئی قانون سازی تک کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے استفسار کیا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ 20 لاکھ کروڑ کے پیاکیج کا کیا ہوا اور وہ کہاں گئے۔ آتما نربھر پیاکیج سے تلنگانہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ صرف ٹھیلہ بنڈی راں کو 10 ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل ہوا ہے۔